اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے،عزیر احمد غزالی

بھارت کو ریاست کی زمین، وسائل اور آبادی کے تناسب میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا کوئی قانونی، اخلاقی یا سیاسی اختیار حاصل نہیں

اتوار 17 مئی 2026 13:15

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 مئی2026ء) پاسبانِ حریت جموں کشمیر کے چیئرمین عزیر احمد غزالی نے مقبوضہ جموں کشمیر میں لاکھوں کنال ریاستی اراضی پر بھارتی فوج اور دیگر اداروں کے غیر قانونی قبضوں اور الاٹمنٹس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے، جس کے مستقبل کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔

لہٰذا بھارت کو ریاست کی زمین، وسائل اور آبادی کے تناسب میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا کوئی قانونی، اخلاقی یا سیاسی اختیار حاصل نہیں۔میڈیا کے نام جاری اپنے بیان میں عزیر احمد غزالی نے کہا کہ قابض بھارتی حکومت فوجی کالونیوں، اسٹریٹیجک ایریاز اور نئی زمینوں کی الاٹمنٹ کے ذریعے مقبوضہ ریاست کی متنازعہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارتی قابض فوج اور دیگر غاصب اداروں کے زیرِ قبضہ اراضی کا حجم لاکھوں کنال تک پہنچ چکا ہے۔ صرف جموں ضلع میں تقریباً 93 ہزار کنال، بڈگام میں 75 ہزار کنال، اودھم پور میں 31 ہزار کنال اور بارہمولہ میں 20 ہزار کنال سے زائد زمین فوجی استعمال میں ہے۔چیئرمین پاسبانِ حریت نے مزید کہا کہ راجوری ضلع میں تقریباً 2 لاکھ 73 ہزار کنال جبکہ ریاسی اور رام بن اضلاع میں بھی ہزاروں کنال ریاستی اراضی غیر قانونی طور پر بھارتی فوج کے قبضے میں دی جا چکی ہے۔

اسی طرح کشمیر ڈویژن کے بارہمولہ اور کپواڑہ اضلاع میں بھی بڑے پیمانے پر ریاستی زمینوں پر قابض فورسز کا کنٹرول قائم کیا جا رہا ہے۔عزیر احمد غزالی نے کہا کہ مقبوضہ ریاست کی زمین کشمیری عوام کی اجتماعی ملکیت ہے اور بھارت بطور قابض قوت اس زمین کی ملکیت منتقل کرنے یا اسے فوجی مقاصد کے لیے مستقل طور پر استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ، او آئی سی، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں زمینوں پر غیر قانونی قبضوں، فوجی توسیع اور آبادیاتی تبدیلیوں کی کوششوں کا فوری نوٹس لیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنی ریاست کی آزادی، حق خودارادیت، انصاف کے حصول اور جغرافیائی، سیاسی اور تاریخی شناخت کے تحفظ کے لیے اپنی جدو جہد ہر سطح پر جاری رکھیں گے۔ بھارت کے فوجی قبضے اور یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔