1'لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 25 مئی2026ء) 28 مئی 1998ء کا دن ہماری سلامتی‘ دفاع اور قومی وقارو افتخار کی علامت کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔ آج
پاکستان کو
ایٹمی قوت بنانے والوں کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں
۔میاں محمد نوازشریف نے ہر قسم کے عالمی دبائو‘ دھمکیوں اور ترغیبات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے
پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی اور
دنیا کی ساتویں
ایٹمی طاقت بنا یا۔
اس روز
دنیا کے ہر گوشے میں قیام پذیر پاکستانیوں کا سر فخر سے بلندہو گیا تھا۔ یوم تکبیر کا پیغام یہی ہے کہ ہم ملکی دفاع‘ ترقی اور خوشحالی کیلئے یکسو ہو جائیں اور کسی کو بھی اپنی منزل کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہ دیں ۔ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوان
قائداعظم ‘
لاہور میں ’’یوم تکبیر‘‘ کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران کیا ۔
(جاری ہے)
اس تقریب کا اہتمام ادارہٴ نظریہٴ
پاکستان نے تحریک
پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ پروگرام کے آغاز پر قاری محمد دائود نے تلاوت جبکہ محمد بلال حسن نے نعت رسول مقبول سنانے کی سعادت حاصل کی ‘ خواجہ محمد افضل نے کلام اقبال پیش کیا۔ نظامت کے فرائض محمد سیف اللہ چوہدری نے انجام دیے۔وائس چیئرمین ادارہٴ نظریہٴ پاکستان
مشاہد حسین سید نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا آج ایک تاریخی دن ہے ‘ اس روز
پاکستان عالم اسلام کی پہلی
ایٹمی قوت بنا جس نے
دنیا بھر میں
پاکستان کی عزت او روقار میں اضافہ کر دیا۔
آج
پاکستان ایران اور
امریکہ کے درمیان سالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد کے ماسکو‘ بیجنگ ‘واشنگٹن،
ریاض سمیت تمام بڑی طاقتوں سے اچھے تعلقات ہیں اور
پاکستان کی آواز کو سنا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا
ذوالفقار علی بھٹو نے
پاکستان کے
ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا ‘ جنوری 1972ء کو انہوں نے سائنسدانوں کی کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کیلئے
ایٹمی طاقت بنیں گے ۔
عزم و حوصلے سے قدم آگے بڑھائے گئے ‘
ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے مدد لی گئی
۔ایٹمی پروگرام کو تیزی اور منظم انداز میں آگے بڑھانے کیلئے غلام اسحاق خان، آغا شاہی اور جی ایچ قادری پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ۔
ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جنرل ضیاء الحق نے بھی اس پروگرام کو آگے بڑھایا ۔
میاں نواز شریف کی منتخب جمہوری سول حکومت نے
ایٹمی دھماکے کرنے کا جراتمندانہ فیصلہ کیا۔
11 مئی 1998ء کو جب ہمیں الماتے (قزاقستان) میں
بھارتی ایٹمی دھماکوں کی اطلاع ملی‘تواس وقت میں
میاں نواز شریف کے ساتھ ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے وہاں تھا۔ انہوں نے پوچھا ’’کیوں مشاہد صاحب کیا خیال ہے‘‘ میں نے میاں صاحب سے کہا ’’میاں صاحب ہن کڑاکے کڈ دیو۔ آپ کسی کی بھی پرواہ نہ کریں۔‘‘انہوں نے میری بات سے اتفاق کیا۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ
ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ بر وقت اور درست تھا اور اس سے
پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا۔
سینئر
صحافی و ممبر بورڈ آف گورنرز ادارہٴ نظریہٴ
پاکستان مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ
پاکستان 28مئی 1998ء کو
ایٹمی طاقت بنا تو اس کے پیچھے برسوں کی محنت اور عرق ریزی شامل تھی ۔
ذوالفقار علی بھٹو کے شروع کردہ
ایٹمی پروگرام کو بعد میں آنیوالی حکومتوں نے جاری رکھا۔11مئی کو
بھارت نے
ایٹمی دھماکے کیے تو اسے جواب دینے کیلئے
ایٹمی دھماکے کرنے کے انتظامات راتوں رات مکمل نہیں ہوئے بلکہ اس پر ہمارے سائنسدان، انجینئر، ٹیکنیکل ماہرین طویل عرصہ سے کام کر رہے تھے اور یہ سب خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس بات کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی کہ
پاکستان ایٹمی طاقت بننے والا ہے۔
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت
ایٹمی پروگرام پر ہمیشہ یکسو رہی اور ہم نے یہ صلاحیت حاصل کر لی۔ آج
پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ ماہر
تعلیم و ممبر بورڈ آف گورنرز ادارہٴ نظریہٴ
پاکستان پروفیسر عابد شیروانی نے کہا 28 مئی 1998ء کو
ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ
پاکستان کی سیاسی قیادت کی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 11 مئی کو
بھارت کے
ایٹمی دھماکوں کے بعد اس خطے میں طاقت کا توازن بدل گیا تھا ۔
پاکستان پر جوابی
ایٹمی دھماکے نہ کرنے کیلئے کافی دبائو تھا
امریکی صدر بل کلنٹن نے وزیراعظم
نواز شریف کو متعدد ٹیلی فون کیے تاہم
میاں نواز شریف نے تمام تر دبائو ، دھمکیوں اور لالچ کے باوجود
ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیںکر سکتا ہے۔ماہر قانون و ٹرسٹی تحریک
پاکستان ورکرز ٹرسٹ شاہد اکرام صدیقی نے کہا کہ 28 مئی 1998ء کو
پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں پر کامیاب
ایٹمی دھماکے کیے تو
دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سب پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔
ہماری سیاسی قیادت نے
ایٹمی دھماکوں کا جراتمندانہ فیصلہ کیا جسے عسکری قیادت کی مکمل تائید حاصل تھی۔ دفاع مضبوط ہو تو ملک مضبوط ہوگا۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور ہماری
ایٹمی طاقت کی بدولت
دنیا بھر میں
پاکستان کی عزت ہے۔صدر نظریہٴ
پاکستان فورم آزاد
کشمیر مولانا محمد شفیع جوش نے کہا اس دن مملکتِ خداداد عالم اسلام کی پہلی اور واحد
ایٹمی طاقت بنا۔
یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا دن ہے۔
میاں نواز شریف نے تمام تر دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود
ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا ۔کشمیری
پاکستان کی موجودہ سیاسی و عسکری قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ سیکرٹری تحریک
پاکستان ورکرز ٹرسٹ محمد سیف اللہ چوہدری نے کہا ہماری قومی تاریخ میں یوم تکبیر ایک تاریخ ساز دن ہے کیونکہ اس دن ہمیں لاکھوں جانوں کی قربانی کے عوض حاصل ہونے والی آزادی کے مستقل تحفظ کی ضمانت مل گئی۔
اس دن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارا ملک
دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی
ایٹمی طاقت بن گیا۔یوم تکبیر کی اس خصوصی تقریب میں مجاہد حسین سید،
ڈاکٹر پروین خان، صفیہ اسحاق، پروفیسر حلیمہ سعدیہ، زبیر اسماعیل، علی رضا، اصغر عبداللہ، سیکرٹری ادارہٴ نظریہٴ
پاکستان ناہید عمران گل ، اساتذہ کرام، طلبا وطالبات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی