قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے تین اہم ترمیمی بلوں کی منظوری کی سفارش کردی

بدھ 3 جون 2026 21:02

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے وفاقی تعلیمی نظام سے متعلق تین اہم ترمیمی بلوں کی منظوری کی سفارش کرتے ہوئے اسلام آباد میں سکول سے باہر بچوں کے اندراج کے لئے جاری ’’نو چائلڈ لیفٹ بی ہائنڈ‘‘ مہم پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ فیڈرل اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں فیکلٹی سے متعلق دیرینہ مسائل کے حل میں پیشرفت نہ ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی اور معاملے کو آئندہ اجلاس کے ترجیحی ایجنڈے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔

بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کا 23واں اجلاس قائم مقام چیئرپرسن مہتاب اکبر راشدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے کانسٹی ٹیوشن روم میں منعقد ہوا جس میں وفاقی تعلیمی شعبے سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں کمیٹی نے تین سرکاری بلوں ’’فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیمی) بل 2026‘‘، ’’پاکستان سٹڈی سینٹرز (ترمیمی) بل 2026‘‘ اور ’’سینٹرز آف ایکسی لینس (ترمیمی) بل 2026‘‘ کی منظوری کی سفارش کر دی۔

کمیٹی کو اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) میں سکول سے باہر بچوں کی نشاندہی، داخلے اور تعلیم میں برقرار رکھنے کے لئےے جاری ’’نو چائلڈ لیفٹ بی ہائنڈ‘‘ مہم پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ یہ مہم یونین کونسل کی سطح پر جامع حکمت عملی کے تحت چلائی جا رہی ہے جس میں گھر گھر سروے، کمیونٹی کی شمولیت اور حقیقی وقت میں نگرانی کے نظام شامل ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ مہم وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت، نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ، بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز، نیشنل ایجوکیشن فاؤنڈیشن، غیر سرکاری تنظیموں، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے تعاون سے جاری ہے۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ 31 یونین کونسلوں میں سروے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ شناخت شدہ بچوں کا ڈیٹا نان فارمل ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (این ایف ای ایم آئی ایس) میں اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

سروے کے دوران 16 سال تک کی عمر کے بچوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جبکہ 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کے داخلے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اب تک آئی سی ٹی کی 36 دیہی یونین کونسلوں میں گھر گھر سروے کے ذریعے 22 ہزار 57 اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں 11 ہزار 733 لڑکے اور 10 ہزار 319 لڑکیاں شامل ہیں۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ چیئرمین آئی سی ٹی-پیرا کی تقرری کے لیے بھرتی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور نامزدگیوں کی منظوری کے لئے سمری وزیر اعظم آفس کو بھجوا دی گئی ہے۔

کمیٹی نے فیڈرل اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں فیکلٹی سے متعلق مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بارہا توجہ دلانے کے باوجود ان مسائل کے حل کے لئے کوئی مؤثر پیشرفت نہیں ہو سکی۔ کمیٹی نے اس تاخیر کو تعلیمی ماحول اور ادارے کی مجموعی کارکردگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو آئندہ اجلاس میں ترجیحی ایجنڈا آئٹم کے طور پر شامل کیا جائے گا، جہاں تمام متعلقہ فریقین کو طلب کر کے ٹھوس اور وقت مقررہ حل تجویز کئے جائیں گے۔

اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی انجم عقیل خان، ذوالفقار علی بھٹی، فرح ناز اکبر، سیدہ آمنہ بتول، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، مسرت رفیق مہیسر اور سبین غوری سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے سیکرٹری، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔