سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس

جمعرات 4 جون 2026 18:15

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 جون2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت اور سماجی تحفظ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ لاجز میں سینیٹر روبینہ قائم خانی کی کنوینر شپ میں منعقد ہوا جس میں 12 اکتوبر 2025 ،30 اپریل 2026، اور 13 مئی 2026 کو جاری کردہ ہدایات کی تعمیل کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر دوست علی جیسر اور سینیٹر جان محمد کے علاوہ سیکرٹری پی بی ایم، منیجنگ ڈائریکٹر، ڈائریکٹر فنانس، ڈائریکٹر آڈٹ، ڈائریکٹر آر اینڈ ڈی، ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

سات ماہ سے زائد عرصہ گزرنے اور پانچ میٹنگوں کے باوجود پی بی ایم انتظامیہ کوئی تعمیلی رپورٹ پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ غیر قانونی ترقیوں کی واپسی، غیر قانونی مالی فوائد کی وصولی یا سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی اس کے علاوہ جون 2025 میں شروع کی گئی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اندرونی انکوائری کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔

(جاری ہے)

ڈائریکٹر آڈٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کا ونگ ان تمام بے ضابطگیوں کی نشاندہی کر چکا ہے اور انتظامیہ کو آگاہ کرنا ان کا فرض ہے۔ جواب میں کنوینئر نے کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اندرونی آڈٹ ٹیم مافیا کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے معاملات کو حل کرنے میں ناکام رہی۔ یہ مسلسل انحراف پارلیمانی نگرانی میں جان بوجھ کر رکاوٹ کے مترادف ہے۔ کنوینئر نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) اور ڈائریکٹر جنرل، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو باضابطہ ریفرنس لیٹر جاری کیا۔

اےجی پی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ پی بی ایم کا ایک خصوصی آڈٹ کرائے جس میں زائد پروموشنز (قانونی کوٹے سے زائد 315 ترقیاں، 191 افسران کی غیر قانونی ترقیاں ،غیر قانونی پیشگی ادائیگی ،فنانس ڈویژن آفس میمورنڈا کی غلط تشریح پر مبنی غیر قانونی اپ گریڈیشن،جعلی ایم بی اے ڈگری کی بنیاد پر تقرری ، سرکاری ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور اختیارات کا غلط استعمال اور مالی ناانصافی شامل ہے۔

ایف آئی اے سے درخواست کی گئی ہے کہ آڈٹ کے دوران پی بی ایم انتظامیہ کی جانب سے عدم تعاون کی صورت میں معاملہ براہ راست اپنے ہاتھ میں لے اور تیس دن کے اندر مکمل ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی صورت میں ذمہ دار افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ذیلی کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس کا مقصد افراد کو نشانہ بنانا نہیں ہے بلکہ ادارہ جاتی بے ضابطگیوں کو ختم کرنا، قانون کی حکمرانی کو بحال کرنا اور پی بی ایم کی طرز حکمرانی کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین، 1973، رولز آف بزنس، 1973، اسٹا کوڈ آف سپریم کورٹ اور پاکستان کے آئین کے مطابق لانا ہے۔

انفرادی افسران کے لیے کوئی بھی تادیبی نتائج ذاتی تعصب سے نہیں بلکہ احتساب کے طریقہ کار کے قانونی اطلاق سے نکلیں گے۔ ان بے ضابطگیوں کی وجہ سے اربوں روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ سرکاری خزانے کو 1.015 ارب کا نقصان سب سے زیادہ غریب شہری بھگت رہے ہیں۔