عالمی فٹبال کپ کے موقع پر خسرے بارے محتاط رہنے کی ہدایت

یو این جمعرات 4 جون 2026 19:45

عالمی فٹبال کپ کے موقع پر خسرے بارے محتاط رہنے کی ہدایت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 04 جون 2026ء) براعظم ہائے امریکہ میں رواں ماہ شروع ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کے موقع پر خطے کے ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ خسرہ کے پھیلاؤ کی نگرانی اور حفاظتی ٹیکے لگانے کے اقدامات کو مزید مضبوط بنائیں، کیونکہ خطے میں یہ بیماری مسلسل پھیل رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے تعاون سے قائم کردہ پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن (پی اے ایچ او) نے ایک انتباہی اعلامیے میں خبردار کیا ہے کہ خسرہ کا پھیلاؤ اور بین الاقوامی سفر میں اضافہ بڑے عوامی اجتماعات کے دوران اس مسئلے کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔

Tweet URL

ادارے نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مرض کی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنائیں، زیادہ خطرے والے علاقوں کی نشاندہی کریں اور ورلڈ کپ سمیت دیگر بڑے اجتماعات سے قبل مسافروں کو ضروری معلومات اور ویکسینیشن کی سہولتیں فراہم کریں۔

(جاری ہے)

155 ممالک میں پھیلتی بیماری

دنیا بھر میں شائقین فٹ بال ورلڈ کپ دیکھنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں جو 11 جون سے 19 جولائی تک جاری رہے گا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ فٹ بال کا یہ سب سے بڑا عالمی مقابلہ تین ممالک (کینیڈا، میکسیکو اور امریکہ) میں بیک وقت منعقد ہو رہا ہے۔

حالیہ عرصہ میں دنیا بھر کے ممالک میں خسرہ کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

13 مئی تک دنیا کے 155 ممالک میں اس بیماری کے ایک لاکھ 84 ہزار سے زیادہ مریض سامنے آ چکے تھے جن میں تقریباً نصف کی باضابطہ تصدیق ہو چکی ہے۔

عالمی سطح پر سب سے زیادہ (29 فیصد) مریض جنوب مشرقی ایشیا میں سامنے آئے۔ 21 فیصد مریضوں کا تعلق مشرقی بحیرۂ روم کے خطے سے جبکہ 19 فیصد کا تعلق افریقہ اور 19 فیصد کا براعظم ہائے امریکہ سے ہے

براعظم ہائے امریکہ کی صورتحال

مئی کے وسط تک امریکی خطے کے 16 ممالک اور ایک علاقے میں خسرے کے 20 ہزار 521 تصدیق شدہ مریض سامنے آئے جن میں 25 اموات ہوئیں۔

یہ تعداد 2025 کے اسی عرصے کے دوران سامنے آنے والے 5 ہزار 123 مریضوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔

جنوری سے اب تک میکسیکو میں خسرے کے 10 ہزار 920 مریضوں کی نشاندہی ہوئی جن میں 13 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ گوئٹے مالا میں 6 ہزار 209 افراد اس مرض کا شکار ہوئے جن میں 12 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

کینیڈا میں ایک ہزار 18 جبکہ امریکہ میں ایک ہزار 952 افراد کو یہ مرض لاحق ہو چکا ہے۔

بولیویا، بیلیز، کوسٹا ریکا، ایل سلواڈور، ہونڈوراس، پاناما اور یورو گوئے سمیت دگر ممالک میں بھی خسرہ کے پھیلاؤ میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

محفوظ سفر کے لیے ہدایات

ورلڈ کپ سے قبل (پی اے ایچ او) نے سفارش کی ہے کہ چھ ماہ یا اس سے زیادہ عمر کے ان مسافروں کو خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی ویکسین کی ایک خوراک ضرور دی جائے جو ویکسینیشن کا ثبوت فراہم نہیں کر سکتے۔

بہتر یہ ہے کہ انہیں یہ ویکسین سفر سے کم از کم دو ہفتے پہلے دی جائے، خاص طور پر اگر وہ ایسے علاقوں کا سفر کر رہے ہوں جہاں بیماری کی منتقلی کی تصدیق ہو چکی ہو۔

مسافروں کو خسرہ اور روبیلا کی علامات سے بھی آگاہ کیا جانا چاہیے، جن میں بخار، جلد پر دانے ابھرنا، کھانسی، ناک بہنا، آنکھوں کی سوزش، جوڑوں کا درد اور لمف نوڈز کا سوج جانا شامل ہیں۔

اگر کسی فرد میں یہ علامات ظاہر ہوں تو اسے فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنی چاہیے، میڈیکل ماسک پہننا چاہیے، دوسروں سے قریبی رابطے سے گریز کرنا چاہیے اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کم از کم سات روز تک عوامی مقامات سے دور رہنا چاہیے۔

'پی اے ایچ او' نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سرحدی علاقوں، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں جیسے حساس مقامات پر وبائی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔