راجوری ،پر تشدد آپریشن جاری، قابض بھارتی فورسز عسکریت پسندوں کا سراغ لگانے میں تاحال ناکام

سرینگر میں مزید جائیدادیں ضبط،کشمیریوں کی بے مثال قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی، حریت کانفرنس

ہفتہ 6 جون 2026 18:40

جموں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 جون2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی طرف سے ضلع راجوری میں پرتشدد تلاشی آپریشن 15ویں روز بھی جاری رہا ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلع کے علاقوں گمبھیر مغلاں اور ڈوریمل کے جنگلاتی علاقے میں جاری آپریشن میں بھارتی فوج، پیرا ملٹری فورسز ، پیرا کمانڈوز کے علاوہ بدنام زمانہ ملیشیا ویلیج دیفنس گارڑز کے ارکان حصہ لے رہے ہیں۔

آپریشن میں ہیلی کاپٹر، ڈرون، سراغ رساں کتے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں ۔بھارتی فوج کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں متعدد عسکریت پسند چھپے ہوئے ہیں تاہم آج آپریشن کا 15واں روز ہے ،بھارتی فورسز انکا سراغ لگانے میں ناکام ہیں۔ طویل آپریشن نے علاقے کے لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر کر دی ہے۔

(جاری ہے)

نئی دلی کے مسلط کر دہ لیفٹیننٹ گونر کے ماتحت انتظامیہ نے کشمیریوں کی جائیدادوں کی ضبطی ، مسماری کا مذموم سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سرینگر میں دو افرد کی کروڑوں روپے کی املاک ضبط کرلیں۔

پولیس نے لیفٹیننٹ گورنر کے حکم پر سرینگر کے علاقے حضرت بل میں راحیل منظور ملہ کا دو منزلہ رہائشی گھر اور ارضی ضبط کر لی ۔ ضبط کی گئی جائیدار کی مالیت 1کروڑ30لاکھ روپے بتائی جارہی ہے۔ پولیس نے ایک اور کارروائی میں سرینگر کے علاقے صورہ میں عادل رشیدنامی شہری کا تقریبا 2کروڑ 20لاکھ روپے مالیت کا رہائشی مکان ضبط کر لیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ نہتے کشمیریوں کے خلاف بی جے پی کی بھارتی حکومت کی وحشیانہ کارروائیوں کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری غیر قانونی بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں جو ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔سینئر حریت رہنما اور پیپلز پولیٹیکل فرنٹ (پی پی ایف )کے سرپرست اعلیٰ فضل حق قریشی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں پارٹی چیئرمین محمد مصدق عادل کو ان کی چوتھی برسی پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔انہوں نے مصدق عادل کی تحریک آزادی کشمیرکیلئے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی جبر وستم کے باوجود اپنی آخری سانس تک حق پر مبنی کاز کے ساتھ عزم وہمت سے وابستہ رہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ میں نئی منظور شدہ ایکسائز پالیسی نے شدید غم غصے کو جنم دیا ہے کیونکہ اس پالیسی سے شراب کی تجارت کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔ پالیسی کی منظوری لداخ میں نئی دلی کے مسلط کردہ کلیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینا نے دی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ آرٹیکل 370کبھی بھی جموںوکشمیرکی ترقی میں رکاوٹ نہیں رہا اور نہ ہی اسکی منسوخی کے بعد خطے میں کوئی غیر معمولی معاشی انقلاب برپا ہوا ہے۔

عمر عبداللہ نے سرینگر میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران بی جے پی کی بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اس نے دفعہ 370کو محض ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ۔انہوںنے کہا کہ کسی بھی خطے کی ترقی کے لیے امن و استحکام بنیادی شرط ہے ۔