کراچی واٹر کارپوریشن کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے، افسران کو کروڑوں کی ادائیگی اور مزدور تنخواہوں کو ترس گئے ہے، ایم کیوایم

اصلاحات کے نام پر نجکاری کا عمل بند کیا جائے، نااہل افسران کے خلاف کارروائی کرکے شہریوں کو پانی کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اراکین سندھ اسمبلی

ہفتہ 6 جون 2026 21:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 جون2026ء) سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم پاکستان کے اراکین نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں جاری مبینہ مالی بے ضابطگیوں، اعلی افسران کو کروڑوں روپے کی غیر قانونی ادائیگیوں اور غریب مزدوروں کے واجبات میں طویل تاخیر پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ واٹر کارپوریشن مکمل تباہ حالی کا شکار ہوچکی ہے جبکہ اہل کراچی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک جانب شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کا شدید بحران ہے اور پمپنگ اسٹیشنز سمیت لائنوں کا نظام بوسیدہ ہوچکا ہے، جبکہ دوسری جانب افسران بھاری تنخواہوں اور مراعات کے مزے لوٹ رہے ہیں جو عوام کے ساتھ سنگین مذاق ہے، ارکان اسمبلی نے مزید کہا کہ مزدور اور نچلا عملہ کئی ماہ سے اپنے جائز واجبات کے حصول کے لیے دربدر ہیں مگر انتظامیہ کی توجہ صرف کروڑوں روپے کے فنڈز ٹھکانے لگانے پر مرکوز ہے، انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ واٹر کارپوریشن کے مالی معاملات، افسران کی تنخواہوں، اضافی مراعات اور مبینہ کرپشن کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں کیونکہ اگر ادارے کی موجودہ تباہ کن صورتحال برقرار رہی تو کراچی کا پانی کا نظام مکمل طور پر ناکارہ ہوجائے گا، صوبائی اراکین سندھ اسمبلی نے واضح کیا کہ اصلاحات کے نام پر نجکاری کا ظالمانہ عمل فی الفور بند کیا جائے، نااہل اور کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہریوں کو بنیادی ضرورت پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ اس وقت کراچی کے عوام شدید اذیت کا شکار ہیں جبکہ افسر شاہی صرف اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے۔