گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ایک ملزم کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری خارج

منگل 9 جون 2026 22:56

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 09 جون2026ء) سپریم کورٹ نے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ایک ملزم کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری خارج کر دی۔جبکہ سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی پانے والے گیارہ ملزمان کی ضمانت منسوخی کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت 18 جون تک ملتوی کرتے ہوئے مذکورہ گیارہ ملزمان میں سے ایک ملزم کی سپریم کورٹ کے روبرو عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیئے۔

علاوہ ازیں توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث دو سزا یافتہ مجرمان کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت بغیر کسی کاروائی کے ملتوی کر دی گئی۔منگل کے روز جسٹس ملک شہزاد احمد،جسٹس عقیل عباسی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے مختلف مقدمات کی سماعت کی اس دوران عدالت نے سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزم ثاقب شمس کی جانب سے دائر درخواست ضمانت بعد از گرفتاری کو خارج کر دیا۔

(جاری ہے)

دوران سماعت ملزم کے وکیل عمران حیدر نے فاضل عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ ملزم دو سال سے زائد عرصے سے جیل میں ہے مگر ملزم کا ٹرائل ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔لہذا وہ ضمانت پر رہائی کا مستحق ہے۔اس پر مذکورہ ملزم کے خلاف مقدمے کے مدعی کے وکیل عادل عزیز قاضی نے فاضل عدالت کی توجہ ٹرائل کورٹ کے حکم۔ناموں کی طرف مبذول کرواتے ہوئے بتایا کہ ٹرائل میں تاخیر ملزم کی جانب سے ہے۔

ملزم کے وکلا گواہوں پر مختلف حیلے بہانوں سے جرح نہیں کررہے۔اس پر فاضل بینچ کے سربراہ جسٹس ملک شہزاد احمد نے مذکورہ ملزم کے وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ ٹرائل مکمل کیوں نہیں ہونے دے رہی آپ گواہوں پر جرح کیوں نہیں کررہی ٹرائل میں تاخیر آپ کی طرف سے ہے۔آپ اپنی درخواست ضمانت واپس لیں گے یا ہم میرٹ پر فیصلہ کریں۔

اس پر ملزم کے وکیل نے فاضل عدالت سے استدعا کی کہ آپ ٹرائل کورٹ کو مقدمے کا فیصلہ کرنے کے متعلق ہدایت جاری کرتے ہوئے میرے مکل کی درخواست ضمانت منظور کر لیں۔جس پر فاضل بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم ٹرائل کورٹ کو کوئی ہدایت جاری نہیں کریں گے۔اب تو فیصلہ بھی آچکا ہے کہ ہم ذیلی عدالتوں کو کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتے۔بعدازاں فاضل عدالت نے مذکورہ ملزم کے وکیل کی جانب سے درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی پانے والے گیارہ ملزمان کی ضمانت منسوخی کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کے مذکورہ فاضل بینچ نے ملزمان کے وکلا کی جانب سے التوا کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے 18 جون تک ملتوی کرتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ اب مزید کوئی التوا نہیں دیا جائے گا۔

اس موقع پر سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی پانے والے گیارہ ملزمان میں سے دس ملزمان سپریم کورٹ کراچی رجسٹری سے وڈیو لنک کے ذریعے مذکورہ فاضل بینچ کے روبرو پیش ہوئے جبکہ ایک ملزم اویس کی عدم حاضری پر سپریم کورٹ نے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔دوسری طرف توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث دو سزا یافتہ مجرمان قیصر ایوب اور امون ایوب کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت سپریم کورٹ کے مذکورہ فاضل بینچ نے بغیر کسی کاروائی کے ملتوی کر دی۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری میں ملوث سزا یافتہ مجرمان کی جانب سے دائر اپیلوں کی طویل سماعت کی وجہ سے عدالتی وقت ختم ہونے پر مذکورہ ملزمان کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت بغیر کسی کاروائی کے ملتوی کی گئی۔