Live Updates

گبد-ریمدان بارڈر کراسنگ پر کسٹمز کلیئرنس آپریشنز مکمل طور پر فعال ہیں ،پاکستان کسٹمز

بدھ 10 جون 2026 22:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 10 جون2026ء) پاکستان کسٹمز نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ گبد-ریمدان بارڈر کراسنگ پر کسٹمز کلیئرنس آپریشنز مکمل طور پر فعال ہیں اور ضروری اشیائے صرف، بالخصوص مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی)کی نقل و حرکت اور کلیئرنس بلا تعطل جاری ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم جون سے 8 جون 2026 کے دوران کلیکٹریٹ آف کسٹمز اپریزمنٹ گوادر کے دائرہ اختیار میں گبد-ریمدان بارڈر کے ذریعے ایل پی جی کی مجموعی طور پر 748 گڈز ڈیکلریشنز (GDs) کلیئر کی گئیں، جن میں تقریبا 17,353 میٹرک ٹن ایل پی جی شامل تھی۔

یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایل پی جی کی درآمدات اور کسٹمز کلیئرنس کا عمل پوری مدت کے دوران مثر اور بلا رکاوٹ جاری رہا۔ضروری اشیا، بشمول ایل پی جی اور بٹومن، کی درآمد میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستان کسٹمز ان اشیا کی کلیئرنس گرین چینل کے تحت ترجیحی بنیادوں پر انجام دے رہا ہے تاکہ ملکی منڈیوں کو بروقت اور بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

(جاری ہے)

کلیکٹریٹ آف کسٹمز اپریزمنٹ گوادر نے حال ہی میں درآمدی کلیئرنس کے نظام کو مزید مثر، شفاف اور قواعد و ضوابط سے ہم آہنگ بنانے کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد غلط ڈیکلریشن، اشیا کو چھپانے، چوری و خرد برد، غیر قانونی اخراج اور حکومتی محصولات میں کمی جیسے مسائل کی روک تھام کرتے ہوئے قانونی تجارت کو مزید سہولت فراہم کرنا ہے۔

کسٹمز رولز 2001 کے مطابق درآمد کنندگان کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ امپورٹ مینی فیسٹ کی فائلنگ، گیٹ اِن، وزن، اسکیننگ اور گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے سمیت تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی سامان کو نجی گوداموں میں منتقل کریں۔ ان اقدامات کا مقصد شفافیت، قانونی تقاضوں کی پاسداری اور مؤثر تجارتی سہولت کاری کو یقینی بنانا ہے۔نظرثانی شدہ کلیئرنس نظام کو کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد نافذ کیا گیا۔

مزید برآں، تجارتی برادری کو نئے طریقہ کار سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ایک ماہ کا عبوری عرصہ بھی فراہم کیا گیا تاکہ اس کا نفاذ آسان، شفاف اور سہولت پر مبنی رہے۔ان اقدامات کے مثبت نتائج کسٹمز ریونیو اور دستاویزی تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافے کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ اپریل تا جون 2026 کے دوران پاکستان کسٹمز نے 8,245 گڈز ڈیکلریشنز کے عوض 12,071 ملین روپے ریونیو وصول کیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 6,909 گڈز ڈیکلریشنز کے عوض 7,861 ملین روپے ریونیو وصول ہوا تھا۔

یہ نمایاں اضافہ اس امر کا مظہر ہے کہ قانونی تجارت کے فروغ، ریونیو لیکج کی روک تھام اور قواعد کی مؤثر عملداری کے لیے کیے گئے اقدامات کامیاب ثابت ہو رہے ہیں۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بعض آئرن اور اسٹیل مصنوعات سے متعلق محدود تعداد میں درآمدی کنسائنمنٹس کو متعلقہ تاجروں نے پاکستان میں داخلے کے بعد مقررہ کسٹمز کارروائی مکمل نہ کرنے کے باعث کلیئر نہیں کرایا۔

نتیجتا ایرانی گاڑیاں، ڈرائیورز اور سامان کئی روز تک سرحد پر رکے رہے۔ بعد ازاں ایرانی کسٹمز حکام کے ساتھ مشاورت اور سرحد پر غیر ضروری رش اور ٹرانسپورٹرز کی مشکلات سے بچنے کے لیے تقریبا 65 ایسی کنسائنمنٹس کو ایران واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔پاکستان کسٹمز قانونی تجارت کے فروغ، جائز درآمدات کی فوری کلیئرنس، حکومتی محصولات کے تحفظ اور کسٹمز قوانین کے مثر نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔

ادارہ تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر تجارتی سہولت کاری، قواعد کی پاسداری اور مثر بارڈر مینجمنٹ کے ذریعے اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔گبد-ریمدان بارڈر پر کسٹمز کلیئرنس آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں اور ضروری اشیا، بالخصوص ایل پی جی، کی نقل و حرکت اور فراہمی بلا تعطل برقرار ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات