اسلام آباد کے 42ہسپتالوں کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی،مصطفی کمال

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے شعبہ صحت پر 1156ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود مریضوں کے اطمینان کی شرح 10فیصد سے بھی کم ہے،وفاقی وزیر صحت

بدھ 10 جون 2026 20:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جون2026ء) وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں 42نجی ہسپتالوں کو صحت سہولت پروگرام میں شامل کر لیا ہے تاکہ سرکاری ہسپتالوں پر بڑھتے ہوئے دبا ئوکو کم کیا جا سکے۔اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شامل کئے گئے نجی ہسپتالوں میں علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی، یہ اقدام صحت سہولت پروگرام کا حصہ ہے جسے کئی سال کی معطلی کے بعد دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث سرکاری ہسپتالوں پر دبائو میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور موجودہ معاشی صورتحال میں اس رفتار کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کی آبادی ساڑھے 35لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ راولپنڈی، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں سے آنے والے مریضوں کی وجہ سے بھی وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے، جس کے باعث رش اور سہولیات کے معیار سے متعلق شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صحت کے شعبے پر مجموعی طور پر 1156ارب روپے خرچ کر رہی ہیں لیکن مریضوں کے اطمینان کی شرح 10فیصد سے بھی کم ہے، ایک حکومتی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ نجی شعبے کے اشتراک سے 210ارب روپے میں بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج وقت کی اہم ضرورت ہے اور اگر نجی شعبے کو شامل نہ کیا گیا تو ملک کو طلب پوری کرنے کے لیے پانچ ہزار نئے ہسپتال تعمیر کرنا ہوں گے۔

وزیر صحت نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا ناقص علاج فراہم کرنے والے ہسپتال کو فوری طور پر پروگرام سے خارج کر دیا جائے گا، انہوں نے پروگرام کی بحالی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کو عالمی معیار کے صحت نظام کے قریب لے جانے میں مدد دے گا۔