قومی یکجہتی، ٹیکنالوجی میں ترقی اور مؤثر دفاعی صلاحیت پاکستان کی اصل طاقت ہے، سردار مسعود خان

جمعرات 11 جون 2026 14:42

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جون2026ء) امریکہ، چین اور اقوام متحدہ پاکستان کے سابق سفیر اور آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور مستقبل کی خوشحالی کا انحصار صرف دفاعی صلاحیتوں پر نہیں بلکہ قومی یکجہتی، تکنیکی جدت، معاشی استحکام، تعلیم اور انسانی ترقی میں سرمایہ کاری پر بھی ہے۔

نظریہ پاکستان کونسل کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کئی دہائیوں کی قومی کاوشوں، سائنسی کامیابیوں اور دور اندیش حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دفاعی توازن خطے کے پیچیدہ حالات میں تشکیل پایا اور اس نے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ علاقائی سلامتی کے بدلتے ہوئے تقاضے، عسکری نظریات میں تبدیلیاں اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز ایک مؤثر دفاعی صلاحیت کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور قومی سلامتی کے معاملات میں ذمہ داری اور تحمل کا ثبوت دیا ہے۔سردار مسعود خان نے سائنس دانوں، انجینئرز، پالیسی سازوں اور قومی قیادت کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی سطح کی بڑی کامیابیاں کسی ایک فرد کی مرہونِ منت نہیں ہوتیں بلکہ یہ اجتماعی وژن، ادارہ جاتی عزم اور قومی یکسوئی کا ثمر ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جدید دور میں سلامتی کا تصور صرف روایتی عسکری قوت تک محدود نہیں رہا۔ مستقبل میں ٹیکنالوجی میں برتری، جدت، سائبر صلاحیتیں، مصنوعی ذہانت، جدید صنعتی پیداوار اور مقامی تحقیق فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔ ان کے بقول جو قومیں آج علم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں گی، وہی کل عالمی قیادت کے منصب پر فائز ہوں گی۔

سردار مسعود خان نے خبردار کیا کہ روایتی سلامتی کے چیلنجز کے ساتھ ساتھ پاکستان کو معلوماتی میدان میں بھی نئے خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات، گمراہ کن پروپیگنڈے، ڈیپ فیکس اور ڈیجیٹل ہیرا پھیری قومی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کے لیے سنجیدہ خطرات بن چکے ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باخبر شہریوں، مضبوط اداروں اور ذمہ دارانہ ابلاغ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامعات، تحقیقی اداروں اور تعلیمی مراکز کو جدت اور قومی ترقی کے مراکز بنانا ہوگا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں، صنعت اور حکومت کے درمیان مؤثر روابط مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تحقیق اور علم کو معاشی ترقی، تکنیکی پیش رفت اور سماجی بہتری میں تبدیل کیا جا سکے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ معاشی استحکام پائیدار قومی طاقت کی بنیاد ہے۔

مضبوط معیشت، صنعتی ترقی، تکنیکی خودانحصاری اور ہنر مند انسانی وسائل قومی ترقی اور سلامتی کے اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہیں۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے عوام ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ تعلیم، جدت اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائے اور ملک کے قیام کے بنیادی اصولوں سے وابستگی برقرار رکھے۔انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی کے فروغ، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری، تکنیکی مہارت کے حصول اور ایک جامع و خوشحال پاکستان کی تعمیر ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ملک اکیسویں صدی کے چیلنجز کا اعتماد اور عزم کے ساتھ مقابلہ کر سکتا ہے۔