جدید نگرانی نظام کے سبب حادثات میں نمایاں کمی آئی ہے، ڈی آئی جی ٹریفک کراچی

منگل 16 جون 2026 21:42

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 جون2026ء) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ جدید ٹریفک نگرانی کے نتیجے میں صرف چھ ماہ کے دوران ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات میں تقریباً 30 فیصد کمی آئی ہے۔ ہر ماہ کئی قیمتی جانیں جدید نظام اور اصلاحات کے باعث محفوظ بنائی جا رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں صنعتکاروں اور کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئےکیا۔

کاٹی ترجمان کی جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ نے کہا کہ روڈ ڈسپلن اور ٹریفک کسی بھی قوم کے اجتماعی رویوں اور تہذیبی شعور کی عکاسی کرتے ہیں۔ کراچی میں ٹریفک نظام کی بہتری اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے گزشتہ چند ماہ کے دوران بھرپور اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

پیر محمد شاہ نے کہا کہ ہر ماہ کئی قیمتی جانیں انہی اصلاحات کے باعث محفوظ بنائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے رویوں میں بھی مثبت تبدیلی آئی ہے، پہلے سیٹ بیلٹ کا استعمال محدود تھا مگر اب آن لائن ڈرائیور بھی مسافر کو سیٹ بیلٹ لگائے بغیر سفر شروع نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک نظم و ضبط کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹریفک فلو یونٹ اور ٹریفک ڈرون یونٹ قائم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت 1300 کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 2250 کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ڈی آئی جی ٹریفک نے واضح کیا کہ کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور موٹر سائیکل کا کم از کم چالان ڈھائی ہزار روپے ہے، یہ جرمانے حکومتی قانون سازی کے تحت نافذ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تجاوزات اور غلط پارکنگ اکثر ٹریفک جام کی بنیادی وجہ بنتی ہیں، اسی لیے 34 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں شہریوں کو زیادہ مشکلات پیش آتی تھیں اور وہاں خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

تقریب میں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت، نائب صدر محمد طلحہ علی، سابق صدر جنید نقی، احتشام الدین، شیخ فضل جلیل، سید فرخ مظہر ، طارق ملک، اسرار احمد، ایس ایس پی ٹریفک کورنگی اسرار احمد چنگیزی، ایس ایس پی ٹریفک ایسٹ امجد حیات، ایس ایس پی ٹریفک ملیر محمد طاہر خان، ڈی ایس پی کورنگی قلندر بخش ناریجو سمیت ممبران اور صنعتکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

متعلقہ عنوان :