ایکسپورٹس میں کمی اور بڑھتے تجارتی خسارے پر فوری توجہ ناگزیر ہے‘فہیم الرحمن سہگل

مختلف وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطوں کا فقدان بھی برآمدی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے‘ رافعہ سید ٹی ڈیپ کا مینڈیٹ ٹریڈ پروموشن ہے، برآمدی شعبے کے متعدد بنیادی معاملات دیگر وفاقی و صوبائی اداروں سے متعلق ہیں‘ڈی جی

پیر 29 جون 2026 21:19

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 جون2026ء) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں حالیہ کمی اور تجارتی خسارے میں نمایاں اضافے کے پیش نظر ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تاکہ ملکی ایکسپورٹس کو پائیدار بنیادوں پر بڑھایا جا سکے،لاہور چیمبر اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے درمیان ہمیشہ ایک مؤثر، عملی اور نتیجہ خیز اشتراک رہا ہے جسے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی ڈائریکٹر جنرل رافعہ سید کی آمد کے موقع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں لاہور چیمبر کے نائب صدر خرم لودھی، سابق صدر محمد علی میاں، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین سید حسن رضا، فردوس نثار، آصف ملک، عامر علی اور کاروباری برادری کے دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان رافعہ سید نے کہا کہ مارکیٹ ڈائیورسفکیشن اور نئی برآمدی منڈیوں کی تلاش بے حد اہم ہے، تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹی ڈی اے پی کا بنیادی مینڈیٹ وزارت تجارت کے ٹریڈ ڈویلپمنٹ آرم اور ٹریڈ پروموشن ادارے کے طور پر کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ادارے کی زیادہ توجہ ٹریڈ پروموشن پر رہی ہے جبکہ سپلائی چین سے متعلق کئی بنیادی معاملات اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خام مال کی درآمد پر ٹیکس اسٹرکچر، مختلف ریگولیٹری امور اور متعدد پالیسی فیصلے دیگر وفاقی اداروں خصوصاً ایف بی آر کے اختیار میں آتے ہیں۔ ٹی ڈی اے پی کاروباری برادری کی تجاویز متعلقہ اداروں تک ضرور پہنچاتا ہے، تاہم ان پر حتمی فیصلے متعلقہ حکام کرتے ہیں۔ڈی جی ٹی ڈی اے پی نے مزید کہا کہ مختلف وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطوں کا فقدان بھی برآمدی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور نجی شعبے کے ساتھ مسلسل مشاورت کے ذریعے ہی برآمدات کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے مزید کہا کہ ٹی ڈیپ نے ہمیشہ لاہور چیمبر کے اہم پروگراموں، نمائشوں اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں میں بھرپور تعاون کیا ہے، خصوصاً حالیہ ایس ایم ایز کانفرنس اور نمائش میں ادارے کی معاونت قابل تحسین رہی۔

انہوں نے کہا کہ اس مضبوط شراکت داری کو مزید عملی شکل دینے کی ضرورت ہے تاکہ برآمدات میں حقیقی اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر اسٹارٹ اپس اور بزنس انکیوبیشن کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے اور اس شعبے میں ٹی ڈی اے پی کا کردار مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے تاکہ نوجوان کاروباری افراد کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو اور نئی ایکسپورٹ مصنوعات متعارف کرائی جا سکیں۔

فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ حالیہ اعدادوشمار تشویشناک ہیں کیونکہ ملکی برآمدات میں تقریباً سترہ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ تجارتی خسارہ بڑھ کر تقریباً 35.8 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں تقریباً ساڑھے آٹھ فیصد اضافے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے، تاہم صرف ریمیٹنسز پر انحصار معیشت کے لیے دیرپا حل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ترسیلات زر کا سہارا نہ ہو تو معیشت کی موجودہ صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے، اس لیے اصل توجہ ملکی برآمدات میں نمایاں اضافے پر مرکوز کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو روایتی منڈیوں کے ساتھ ساتھ نئی عالمی منڈیوں میں رسائی، ویلیو ایڈیشن، جدید مصنوعات، جدت پر مبنی کاروباری ماڈلز، اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی اور نجی و سرکاری شعبے کے درمیان مؤثر اشتراک کے ذریعے اپنی برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔

اجلاس کے دوران شرکاء نے مارکیٹ ڈائیورسفکیشن، نئی ایکسپورٹ منڈیوں، ویلیو ایڈیشن، اسٹارٹ اپس، بزنس انکیوبیشن، ٹریڈ فیسلیٹیشن اور برآمد کنندگان کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حکومت، ٹی ڈی اے پی اور کاروباری برادری کے درمیان مضبوط اشتراک اور مربوط پالیسی سازی ہی پاکستان کی برآمدات میں پائیدار اضافے کی بنیاد بن سکتی ہے۔