Live Updates

ایران سے مقامی کرنسی میں سستا تیل و گیس درآمد کرنے کا جائزہ لیا جائے، صدر کاٹی

توانائی تعاون ملکی معیشت کے لیے سودمند، زرمبادلہ پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے، محمد اکرام راجپوت

منگل 30 جون 2026 20:33

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 جون2026ء) کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ ایران سے مقامی کرنسی میں سستا تیل اور گیس درآمد کرنے کے امکانات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تاکہ ملک کی توانائی کی ضروریات کم لاگت پر پوری کی جا سکیں، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں کمی آئے اور قومی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران مذاکرات میں ایران پر پابندیوں کے خاتمہ سے فوری فائدہ اٹھایا جائے ۔ صدر کاٹی نے کہا کہ پاکستان توانائی درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے سستے ذرائع سے تیل اور گیس کی فراہمی ملکی صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ اور عوامی زندگی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

(جاری ہے)

اگر ایران کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی اور مقامی کرنسی میں تجارتی نظام تشکیل دیا جائے تو اس سے نہ صرف درآمدی اخراجات کم ہوں گے بلکہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون بھی فروغ پائے گا۔

اکرام راجپوت نے کہا کہ خطے میں حالیہ کشیدگی اور جوابی حملوں کے باعث عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی، جس سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم اب عالمی منڈی میں قیمتوں میں آنے والی کمی کے ثمرات بھی فوری طور پر پاکستان کے عوام، صنعت اور کاروباری شعبے تک منتقل کرنا ضروری ہے۔صدر کاٹی نے کہا کہ بجلی، گیس اور توانائی کی خطہ میں بلند ترین لاگت پاکستانی صنعت کی مسابقت کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ برآمدی شعبہ بھی اضافی پیداواری لاگت کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔

سستی توانائی کی دستیابی سے صنعتی پیداوار میں اضافہ، برآمدات میں بہتری، روزگار کے نئے مواقع اور سرمایہ کاری کے فروغ کی راہ ہموار ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ممکنہ توانائی ذرائع اور علاقائی اقتصادی تعاون کے مواقع کا عملی جائزہ لے، تاکہ پاکستان کم لاگت توانائی کے فوائد حاصل کرتے ہوئے معاشی استحکام کی جانب تیزی سے گامزن ہو۔ اکرام راجپوت نے امید ظاہر کی کہ حکومت توانائی کے شعبے میں دور رس اور حقیقت پسندانہ فیصلے کرے گی، تاکہ عوام کو مہنگائی سے نجات ملے، صنعت کو سستی توانائی اور ملکی معیشت کو پائیدار ترقی کی نئی راہیں میسر آسکیں۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات