قابض حکام نے مولانا مسرور عباس انصاری کو سرینگر میں پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا

بھارتی پولیس نے مولانا انصاری کی رہائش گاہ کی طرف جانے والی گلی کی ناکہ بندی کر دی اور صحافیوں کو مقررہ مقام تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی

بدھ 1 جولائی 2026 17:05

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 جولائی2026ء) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور ممتاز شیعہ عالمِ مولانا مسرور عباس انصاری نے قابض حکام کے دوہرے معیارکی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے انہیں سرینگر کے علاقے ایچ ایم ٹی میں واقع اپنی رہائش گاہ پرطے شدہ پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی پولیس نے مولانا انصاری کی رہائش گاہ کی طرف جانے والی گلی کی ناکہ بندی کر دی اور صحافیوں کو مقررہ مقام تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی، جس کے باعث طے شدہ پریس کانفرنس منعقد نہ ہو سکی۔بعد ازاں ایکس پر جاری ایک بیان میں مولانا مسرور عباس انصاری نے کہا کہ جہاں ایک جانب جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے ایک رہنما کو اپنے حامیوں کے ہمراہ پولیس رکاوٹیں عبور کرکے ہردہ پنزو جانے کی اجازت دی گئی اور میڈیا کے سامنے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیان دینے کی کھلی چھوٹ دی گئی، وہیں انہیں اپنا مؤقف پٴْرامن انداز میں عوام کے سامنے رکھنے اور حقائق بیان کرنے کا بنیادی جمہوری حق بھی نہیں دیا گیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایک شخص کوشیعہ برادری کے داخلی معاملات میں مداخلت کی کھلی چھوٹ دی گئی۔مولانا مسرور عباس انصاری نے اس صورتحال کو واضح دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکام کا یہ طرزِ عمل ان کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کچھ افراد کو اشتعال انگیزی اور کشیدگی پیدا کرنے کی اجازت دی جائے جبکہ دوسروں کو اپنا مؤقف پٴْرامن طریقے سے پیش کرنے کے جمہوری حق سے محروم رکھا جائے، تو اس سے قانون کی حکمرانی اور تمام شہریوں کے ساتھ یکساںسلوک کے اصول پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔