مقبوضہ جموں وکشمیر ، بالی ووڈ کی آنے والی فلم ”چوہان“ پرشدید غم و غصہ، ٹیزر پر شدید تنقید، حقائق کے منافی قرار

جمعرات 2 جولائی 2026 17:34

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جولائی2026ء) بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن کی آنے والی فلم 'چوہان' کا ٹیزر منظرِ عام پر آتے ہی بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔ فلم کے ٹیزر میں پیلٹ گن سے آنکھوں کو پہنچنے والے شدید نقصان کو 'محدود نقصان' قرار دیا گیا ہے، جس پر پیلٹ متاثرین اور مقامی رہنمائوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی قرار دیا ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فلم کے ٹیزر میں اجے دیوگن کی آواز میں پیلٹ گن سے ہونے والے نقصان کو کم تر قرار دیا گیا ہے جس نے متاثرین کے پرانے زخم تازہ کر دیے ہیں۔ پیلٹ متاثرین ، انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مکالمے حقیقت کے منافی ہیں کیونکہ پیلٹ کے چھروں نے مقبوضہ وادی کشمیر کے ہزاروں نوجوانوں کو زندگی بھر کے لیے جزوی یا مکمل طورپر بصارت سے محروم کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

ٹیزر میں ایک نوجوان کو احتجاج کے دوران آنکھوں میں پیلٹ لگتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ پس منظر میں اجے دیوگن کی آواز سنائی دیتی ہے، جس میں ان چوٹوں کو محدود نقصان قرار دیا جاتا ہے۔یہ مکالمہ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ پیلٹ گن سے متاثر ہونے والے ہزاروں کشمیریوں کی تکالیف اور مستقل معذوری کو اس انداز میں پیش کرنا ناصرف حقائق کے منافی بلکہ متاثرین کی توہین کے مترادف ہے۔

کئی سوشل میڈیا صارفین نے فلم کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا۔ ایک صارف نے لکھا پیلٹ گن کو محدود نقصان کہنا ان ہزاروں نوجوانوں کی تکلیف کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے جنہوں نے اپنی بینائی کھو دی۔ کئی صارفین نے کشمیری متاثرین، جن میں حبا نثار اور انشامشتاق جیسی کم عمر بچیاں بھی شامل ہیں ، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیلٹ گن کے اثرات کو معمولی قرار دینا حقیقت کے برعکس ہے۔

بعض صارفین نے فلم کومحض ایک پروپیگنڈا فلم قرار دیتے ہوئے اس کے مقصد اور وقت پر بھی سوالات اٹھائے، مقبوضہ علاقے کی مقامی سیاسی جماعتوں نے بھی ٹیزر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ متاثرین کے حقیقی تجربات کے قطعی برعکس ہے۔نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فلم کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک فلم نہیں بلکہ ایسا پروپیگنڈا ہے جو تشدد کو ہوا دے سکتا ہے۔

انہوں نے لکھا، "یہ فلم پروپیگنڈے کا ایسا نمونہ ہے جو گوبلز کے پروپیگنڈے کو بھی شرمندہ کر دے۔ اس میں ایسا مواد شامل ہے جو کشمیر میں دوبارہ نفرت اور تشدد کو بھڑکا سکتا ہے۔ جن بچوں اور نوجوانوں نے پیلیٹ گن سے اپنی بینائی یا جان گنوائی، ان کا مذاق اڑانا اور ان کے خاندانوں کے زخم تازہ کرنا کشمیریوں کے خلاف ایک بدنیتی پر مبنی ایجنڈا ہے۔

" معروف سماجی کارکن وجاہت فاروق بھٹ نے بھی فلم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا "ہم نے برسوں بم دھماکے، گولیوں کی آوازیں، کرفیو، خوف اور بے یقینی کے ماحول میں زندگی گزاری ہے۔ اس حقیقت میں نہ کوئی رومانویت تھی، نہ کوئی بہادری اور نہ ہی تفریح۔ اس نے خاندانوں کو برباد کیا، بچوں کا بچپن چھین لیا اور پوری نسل کو خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا۔

طلبا رہنما سہیل پرے نے بھی فلم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نفرت پھیلانے اور پیلیٹ گن متاثرین کی تکالیف کو تفریح کا ذریعہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر نفرت کب تک پھیلائی جائے گی؟ کشمیریوں کو بدنام کر کے اور متاثرین کے دکھ کو مذاق بنا کر اگر فلمیں کامیاب ہوتی ہیں تو یہ انتہائی شرمناک بات ہے۔ سماجی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ فلم سازوں کو کشمیر جیسے حساس موضوعات پر کام کرتے وقت زمینی حقائق، عوامی جذبات اور سماجی ذمہ داری کو پیش نظر رکھنا چاہیے تاکہ فن کے نام پر کسی بھی طبقے کے دکھ اور تکلیف کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔