اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جولائی 2026ء) بدھ کو کیے گئے ایک سرکاری اعلان کے مطابق 210 رکنی عوامی اسمبلی (پیپلز اسمبلی) کا پہلا اجلاس آئندہ پیر کے روز ہو گا۔ پارلیمانی انتخابات کے لیے اعلیٰ عدالتی کمیٹی کے سربراہ محمد طہٰ الاحمد نے ایک پریس کانفرنس میں اس اجلاس کے انعقاد کی تصدیق کر دی۔
یہ پارلیمنٹ ایسے وقت پر تشکیل پا رہی ہے جب صدر احمد الشرع کی قیادت میں 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے شام ایک نئے سیاسی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
پارلیمنٹ کے اختیارات محدود ہوں گے
عبوری آئینی نظام کے تحت پارلیمنٹ کو محدود اختیارات حاصل ہوں گے، کیونکہ ملک میں صدارتی طرز حکومت نافذ ہے۔
پارلیمنٹ
کے دو تہائی، یعنی 140 ارکان، گزشتہ سال علاقائی انتخابی کونسلوں کے ذریعے منتخب کیے گئے تھے، جبکہ باقی 70 ارکان کو صدر احمد الشرع نے نامزد کیا ہے۔(جاری ہے)
خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی
صدر الشرع کی جانب سے نامزد کیے گئے ارکان میں 15 خواتین بھی شامل ہیں، جس کے بعد پارلیمنٹ میں خواتین ارکان کی مجموعی تعداد 21 ہو گئی ہے۔
گزشتہ سال انتخابی عمل کے دوران صرف چھ خواتین اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں، جس پر خواتین کی کم نمائندگی کے حوالے سے تنقید بھی کی گئی تھی۔
حکام نے یہ نہیں بتایا کہ نئے نامزد ارکان میں مذہبی یا نسلی اقلیتوں کے کتنے نمائندے شامل ہیں۔
گزشتہ سال منتخب ہونے والے ارکان میں 10 نشستیں کرد، مسیحی اور علوی برادری سمیت مختلف مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے نمائندوں کو ملی تھیں۔
سابق صدر بشار الاسد کا تعلق بھی علوی برادری سے تھا، جبکہ احمد الشرع شام کی اکثریتی سنی مسلم آبادی سے تعلق رکھتے ہیں۔اعلیٰ انتخابی کمیٹی کے سربراہ محمد طہٰ الاحمد نے بتایا کہ اکثریتی طور پر دروز آبادی والے صوبے السویدا کی نشستوں پر ارکان کے انتخاب کا عمل مؤخر کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک وہاں حالات سازگار نہیں ہو جاتے۔
السویدا گزشتہ سال جولائی میں حکومتی فورسز اور دروز جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد سے مکمل طور پر حکومتی کنٹرول میں نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان جھڑپوں میں تقریباً 1,700 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ناقدین کے تحفظات
اقوام متحدہ
کے نائب خصوصی ایلچی برائے شام کلاڈیو کورڈونے نے گزشتہ ہفتے سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ پارلیمنٹ کی تشکیل میں تاخیر عوام میں بے چینی پیدا کر رہی ہے۔دوسری جانب بعض شامی سیاسی شخصیات اور سول سوسائٹی تنظیموں نے انتخابی طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام کے باعث مقننہ پر صدر کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ اس عمل سے پارلیمنٹ کی خود مختاری اور اس کا سیاسی تنوع متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ان تنظیموں نے خواتین، مختلف مذہبی و نسلی برادریوں کی زیادہ نمائندگی، عدلیہ کی آزادی کے مؤثر تحفظ اور انتخابی عمل کی آزاد نگرانی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
عبوری آئین کے تحت نظام
مارچ 2025 میں نافذ کیے گئے عبوری آئین کے مطابق پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے، تاہم حکومت کے لیے اعتماد کا ووٹ لینے کی آئینی پابندی نہیں ہو گی۔
عبوری پارلیمنٹ کی مدت 30 ماہ مقرر کی گئی ہے، جس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ مستقل آئین کی منظوری اور نئے عام انتخابات کے انعقاد تک یہی اسمبلی قانون سازی کے اختیارات استعمال کرے گی۔
ادارت: مقبول ملک