سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کا ساتھیوں سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان

عبدالعلیم خان کا ان کی شمولیت کا خیرمقدم ، سردار تنویر الیاس کی شمولیت سے آزاد کشمیر میں تنظیمی ڈھانچے کو تقویت ملے گی، صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 2 جولائی 2026 20:51

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کا ساتھیوں سمیت استحکام ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جولائی2026ء) سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کا ساتھیوں سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔ سماء نیوز کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان سے اہم ملاقات کے بعد اپنے ساتھیوں سمیت پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

شمولیت اختیار کرنے والی نمایاں شخصیات میں آزاد کشمیر کے وزیر زراعت چوہدری علی شان سونی ، سابق وزیر صحت نثار انصر ابدالی اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے مشیر سردار افتخار رشید بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے سردار تنویر الیاس اور ان کے ساتھیوں کا پارٹی میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت سے پارٹی مزید مضبوط ہوگی اور آزاد کشمیر میں تنظیمی ڈھانچے کو تقویت ملے گی۔

(جاری ہے)

سردار تنویر الیاس اور دیگر رہنماؤں نے اس موقع پر عبدالعلیم خان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ استحکام پاکستان پارٹی کے پلیٹ فارم سے عوامی خدمت اور سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کی اہم سیاسی شخصیات کی آئی پی پی میں شمولیت آئندہ سیاسی منظرنامے، خصوصاً آزاد کشمیر کے انتخابات، پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آزاد جموں و کشمیر کے موجودہ کشیدہ حالات، عوامی دھرنوں اور ریاستی طاقت کے استعمال کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا اعلان کردیا۔ پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کوئی عارضی سیاسی حکمتِ عملی یا نفع نقصان کا حساب نہیں بلکہ یہ کشمیری عوام کی امنگوں، حقِ خودارادیت اور ان کے جمہوری حقوق کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا کھلا ثبوت ہے، جب کشمیری عوام خود سڑکوں پر ہوں تو پی ٹی آئی اقتدار کی سیاست کے لیے انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکتی۔

تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کی موجودہ دگرگوں صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں ہزاروں شہری اپنے جائز مطالبات کے لیے دھرنا دیے بیٹھے ہیں، حکومت کی طرف سے طاقت کے بے جا استعمال کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پنجاب سے آزاد کشمیر کو اشیائے خوردونوش کی ترسیل بھی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے، جس سے وہاں شدید انسانی بحران جنم لے رہا ہے، ایسے حالات میں الیکشن کروانا عوام کو مزید سیاسی عدم استحکام میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

اعلامیے میں موجودہ مقتدر حلقوں کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومتی طرزِ عمل سے آزاد جموں و کشمیر کی آئینی، جمہوری اور سیاسی شناخت کو شدید مجروح کیا جا رہا ہے، ایک ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جس سے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان موجود بنیادی فرق ہی مٹ جائے، جو پاکستان کی تاریخی اور روایتی کشمیر پالیسی کے لیے انتہائی مہلک اور نقصان دہ ہے، قیادت کی گرفتاریوں، میڈیا پر قدغنوں اور سیاسی کارکنوں پر ظلم کے ماحول میں انتخابی عمل اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔