ایک دوسرے کو گرانے سے فرصت ملے تو دلدل کی طرف پیش قدمی روکیں، خواجہ سعد رفیق

مخالفین کو دبانے کیلئے ریاستی اداروں کے کندھے استعمال کرتے کرتے سول اسپیس برائے نام رہ جاتی ہے اور آپ اخلاقی جواز کھو بیٹھتے ہیں، دائروں میں ہمارا سفر جاری ہے؛ سابق وفاقی وزیر کا بیان

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 2 جولائی 2026 19:58

ایک دوسرے کو گرانے سے فرصت ملے تو دلدل کی طرف پیش قدمی روکیں، خواجہ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جولائی 2026ء) مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ملکی سیاسی منظر نامے، پارلیمنٹ کی بے وقعتی، اور مخالفین کو دبانے کے لیے ریاستی اداروں کے استعمال پر ایک تلخ اور چشم کشا ترین تجزیہ پیش کیا ہے، انہوں نے کسی لگی لپٹی کے بغیر اعتراف کیا ہے کہ اس بگڑے ہوئے نظام کے ذمہ دار تمام سیاست دان اور ادارے ہیں اور اب ملک مسلح لشکروں کے راج کی طرف بڑھ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ دہائیوں کی غفلتوں اور محلاتی سازشوں کے بعد ہماری پیاری سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ بے وقعتی کی آخری حدوں کو پہنچ چکی ہیں، اگر سیاسی جماعتوں کی تنظیم، اندرونی جمہوری رویوں، میرٹ اور مخالفانہ آوازوں کو برداشت کرنے پر تھوڑی سی بھی محنت کر لی جاتی، تو آج ہم ایک پرامن، مستحکم اور جمہوری معاشرہ بن چکے ہوتے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جب بھی ملک کو چند قدم آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی، تو کبھی جمہوریت، کبھی انصاف، ترقی، قومی مفاد، استحکام یا قومی سلامتی کی آڑ لے کر ملک کو ریورس گیئر لگا دیا گیا، بدقسمتی سے اس حمام میں سب ننگے ہیں، کسی جماعت یا ادارے کے ہاتھ صاف نہیں ہیں، امرِ واقعہ یہی ہے کہ مخالفین کو دبانے کے لیے ریاستی اداروں کے کندھے استعمال کرتے کرتے سول اسپیس برائے نام رہ جاتی ہے اور آپ اخلاقی جواز کھو بیٹھتے ہیں۔

خرابی یہ ہے کہ ہمیں اپنے مفاد میں یہ سب سُہانا دکھائی دیتا ہے، تاآنکہ ہماری اپنی باری آ جاتی ہے، ہماری نیم جمہوری سیاسی جماعتیں اور حکومتیں گڈ گورننس کرنے کے بجائے سب کچھ ریاستی اداروں کی طاقت پر چھوڑ دیتی ہیں، اور پھر پانی سر سے گزرنے کے بعد نیم دلی سے سیاسی حل تلاش کیا جاتا ہے جو عموماً ناکام رہتا ہے، اس کے بعد قومی سلامتی کے نام پر طاقت کا بے محابا استعمال ہی آخری حل سمجھا جاتا ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے موجودہ نظام کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آئینِ پاکستان کی روح کے مطابق عمل کرنے والوں کے لیے اب سیاست میں رہنے کی گنجائش مسلسل کم ہو رہی ہے اور دائروں میں ہمارا یہ سفر جاری ہے، اگر یہی حالات رہے تو یاد رکھیں، مستقبل میں مختلف ناموں اور ٹائٹلز سے بننے والے جتھے، کمیٹیاں اور مسلح لشکر راج کرتے نظر آئیں گے، اگر ایک دوسرے کو پچھاڑنے، گرانے اور رگیدنے سے فرصت ملے، تو اپنی غلطیوں پر غور و خوض کرکے دلدلوں کی جانب اس اجتماعی پیش قدمی کو روکنے پر غور کر لیا جائے، اپنے بیان کے آخر میں خواجہ سعد رفیق نے شعر لکھا کہ "اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی، ہم نے تو دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا"۔