جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہئے، وہاں قیدیوں کیلئے انتظار گاہ بنائی جائے
عمران خان کی ان کے بیٹوں سے ویڈیولنک پر بات کرائی جائے، اگر بہنوں کی ملاقات نہیں ہوسکتی تو واٹرکینن کا استعمال بھی نہ کیا جائے،خان کا ذاتی معالجین سے علاج کرایا جائے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا جیل اصلاحات کانفرنس سے خطاب
ثنااللہ ناگرہ
جمعرات 2 جولائی 2026
22:01
(جاری ہے)
جمہوریت میں سیاسی جلسے کی شکایت ہوتی ہے لیکن یہاں جلسہ ہوتا ہے تو ایف آئی آر درج ہوجاتی ہے۔
خیبرپختونخواہ میں جیل اصلاحات کررہے ہیں کیونکہ قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ مجھے اڈیالہ جیل میں 24، 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا گیا، جیل میں جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے، جیل میں میری چیخیں کسی نے نہیں سنیں، مجھے جیل جاکر احساس ہوا کہ بے بس قیدی کیسا محسوس کرتا ہے۔یہ بات انہوں ںے جیل ریفارمز کانفرنس سے خطاب میں کہی۔ خطاب سے پہلے مریم نواز نے پنجاب میں جیل اصلاحات سے متعلق ڈاکومنٹری چلوائی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ میں نے جیل میں اصلاحات کی ہیں اور وہ اصلاحات کیں جو خود جیل میں کاٹ کر دیکھا، میں یہاں اس فورم پر کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتی، مجھے اڈیالہ جیل میں 24، 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا گیا، قید تنہائی کا ذہنی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے اس کا اندازہ ہے مجھے، جیل میں جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے، پنجاب کی جیلوں میں تمام قیدیوں کے لیے ویڈیو لنک کی سہولت ہے، جیل میں میرے ساتھی کتابیں اور جائے نماز تھیں، جیل میں جو دیکھا اس پر پنجاب کی جیلوں کو ماڈرنائز کیا، جیلوں میں نئی جدید ریفارمز کو متعارف کروایا۔مریم نواز نے بتایا کہ میں اور میرے والد ایک ساتھ جیل میں تھے، دوران قید میری والدہ بیمار تھیں تاہم ہمیں والدہ سے نہیں ملنے دیا گیا، جیل کاٹنے کی قید کی میری بھی اپنی کہانی ہے، جیل میں ہر قیدی کی اپنی کہانی ہے، جیل میں میری شوگر ڈاؤن ہوئی تو مدد کو کوئی نہیں آیا، میرے ہاتھ کانپ رہے تھے گڑ والی بوتل ہاتھ سے گر کی ٹوٹ گئی، میں نے زمین پر گرا گڑ اٹھا کر کھایا جب زمین سے گڑ اٹھا کر کھایا تو اس میں کانچ کے ٹکڑے تھے، جیل میں میری چیخیں کسی نے نہیں سنیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جیل میں کوئی پرائیویسی نہیں تھی، جیل کے کمرے میں ایک سائیڈ پر واش روم دوسرا حصہ سونے کے لیے تھا، جیل کے کمرے میں پارٹیشن نہیں تھے، مجھے سمجھ نہیں ا?تی کہ جائے نماز کہاں بچھاؤں، اسی لیے قیدیوں کے لیے ریفارمز متعارف کرائیں، ایمرجنسی بٹن متعارف کرایا، مجھے جیل میں احساس ہوا کہ بے بس قیدی کیسا محسوس کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے جس سیل میں رکھا گیا اس کے ساتھ کم عمر بچوں کا سیل تھا، سیل سے روز بچوں کے چیخنے کی آوازیں آتی تھیں۔مزید اہم خبریں
-
ایس ایم ڈبلیو 5سب میرین کیبل میں خرابی کے باعث انٹرنیٹ ٹریفک میں تعطل
-
پرتگال کے ورک ویزے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے بٹورنے والا انسانی سمگلر گرفتار
-
وینزویلا زلزلہ: بیس بال سٹیڈیم بنا متاثرین کی پناہ گاہ
-
خیبرپختونخواہ حکومت نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے بڑے پیکج کا اعلان کردیا
-
جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہئے، وہاں قیدیوں کیلئے انتظار گاہ بنائی جائے
-
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کا ساتھیوں سمیت استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان
-
لاہور غیرملکی خواتین زیادتی کیس؛ اسحاق ڈار کے رشتے دار رضا ڈار کیخلاف مقدمہ درج
-
ورلڈ بینک کے مطابق وفاق میں وزارتوں اور اخراجات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوگیا ہے
-
دیسی ساختہ موٹرکشتی کا انجن جھیل کے عین درمیان میں بند ہوگیا‘پانی کی بے رحم لہروں نے کشتی الٹا دی . ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ
-
تحریک انصاف کا آزاد کشمیر انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان
-
ایک دوسرے کو گرانے سے فرصت ملے تو دلدل کی طرف پیش قدمی روکیں، خواجہ سعد رفیق
-
پاکستان کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی اطلاعات، صارفین پریشان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.