Live Updates

صوبائی وزیر لیبر محمد منشا اللہ بٹ ،چیئرمین گورننگ باڈی کی زیر صدارت پیسی گورننگ باڈی کا اجلاس، محنت کش دوست فیصلوں کی منظوری

سوشل سکیورٹی کے بجٹ میں مجموعی طور پر صحت اور فلاحی منصوبوں کے لیے خطیر رقوم مختص کی گئی ہے،مریم نواز راشن کارڈ کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کو جدید طبی سہولیات اور مالی مراعات کی فراہمی تسلسل سے جاری ہے‘ صوبائی وزیر لیبر محمد منشا اللہ بٹ

جمعرات 2 جولائی 2026 19:54

صوبائی وزیر لیبر محمد منشا اللہ بٹ ،چیئرمین گورننگ باڈی کی زیر صدارت ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جولائی2026ء) صوبائی وزیر لیبر و چیئرمین گورننگ باڈی پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (پیسی)محمد منشا اللہ بٹ کی زیر صدارت پیسی گورننگ باڈی کا 180واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمشنر سوشل سکیورٹی ذوالفقار علی کھرل نے شرکت کی اور مختلف منصوبہ جات پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ وائس کمشنر پیسی توقیر الیاس چیمہ اور گورننگ باڈی کے اراکین بھی اجلاس میں موجود تھے۔

اجلاس میں محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو بہتر طبی اور فلاحی سہولیات کی فراہمی کے لیے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔گورننگ باڈی نے سوشل سکیورٹی ہسپتال مانگا رائیونڈ روڈ لاہور میں پیسی نرسنگ اسکول کے قیام کے لیے پی سی ون کی منظوری دے دی۔ اسی طرح سوشل سکیورٹی ہسپتال شیخوپورہ کے 100بیڈز پر مشتمل منصوبے کے لیے بھی پی سی ون کی منظوری دی گئی۔

(جاری ہے)

اس منصوبے کا مقصد شیخوپورہ کے رجسٹرڈ محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو جدید اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ شیخوپورہ ریجن میں رجسٹرڈ ورکرز کی تعداد 73,549جبکہ ان کے اہل خانہ کی تعداد 3,67,745ہے۔اجلاس میں سوشل سکیورٹی ایمرجنسی سینٹر حافظ آباد کو سوشل سکیورٹی ڈسپنسری میں اپ گریڈ کرنے کی منظوری بھی دی گئی جبکہ پسرور میں سوشل سکیورٹی ڈسپنسری کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔

یہ فیصلے ورکرز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور صحت کی سہولیات کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے۔گورننگ باڈی نے پنجاب سوشل سکیورٹی کے مالی سال 2026-27کے مجوزہ بجٹ کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محنت کشوں کے کیش بینیفٹس کا بجٹ 1.38ارب روپے سے بڑھا کر 2.76ارب روپے کر دیا جائے گا۔ ادویات کے بجٹ میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 7.91فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے جبکہ طبی آلات کے بجٹ میں 15.46فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

مزید برآں پنجاب بھر کے سوشل سکیورٹی بنیادی صحت یونٹس کی مرحلہ وار اپ گریڈیشن کی جائے گی اور موبائل آٹ ریچ پروگرام کے لیے 80 موٹر سائیکلوں کی خریداری کی جائے گی۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26کے دوران 5سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کو سولرائز کیا گیا. جبکہ مالی سال 2026-27میں باقی ہسپتالوں کی سولرائزیشن کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔

اسی طرح مالی سال 2026-27میں میڈیکل کیئر کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔.صوبائی وزیر لیبر و چیئرمین گورننگ باڈی پیسی محمد منشا اللہ بٹ نے کہا کہ سوشل سکیورٹی کے بجٹ میں مجموعی طور پر صحت اور فلاحی منصوبوں کے لیے خطیر رقوم مختص کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے راشن کارڈ پروگرام کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کو جدید طبی سہولیات اور مالی مراعات کی فراہمی کا سلسلہ بھی تسلسل سے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ محنت کشوں کی فلاح و بہبود حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے اور حکومت محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہی. صوبائی وزیر لیبر محمد منشا اللہ بٹ نے مزید کہا کہ سوشل سکیورٹی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ ورکرز اور ان کے اہل خانہ کو بہتر سے بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات