کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے 105 سال ترقی، اصلاحات اور قومی احیا کی عظیم داستان ہیں، وجیہہ قمر

جمعہ 3 جولائی 2026 21:25

اسلام آبا د(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 جولائی2026ء) وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کے 105 سال محض ایک عدد نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد، قومی احیا، اصلاحات اور ترقی کے مختلف ادوار کی ایک عظیم داستان ہیں جس نے نہ صرف چین کو ترقی و خوشحالی کی نئی منزلوں سے ہمکنار کیا بلکہ دنیا کے متعدد ممالک کو بھی مشترکہ ترقی اور تعاون کے سفر میں شریک کیا۔

یہ بات انہوں نے چائنا میڈیا گروپ اور انسٹیٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار بعنوان ’’کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے 105 سال: کامیابیاں، تجربات اور چین۔پاکستان ہم نصیب معاشرہ‘‘ سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

تقریب میں پاکستان میں چین کے سفارتخانہ کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن شی یوآن چیانگ، سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، آئی ایس ایس آئی کے چیئرمین خالد محمود، سابق سفیر نائلہ چوہان، ڈاکٹر جبران حسین رضا، ڈاکٹر عبدالواحد تونسوی، سرکاری حکام، سفارتکاروں، ماہرین، اساتذہ، طلبہ اور میڈیا نمائندوں نے شرکت کی۔

وجیہہ قمر نے کہا کہ غربت کے خاتمے، جدیدکاری، موثر طرزِ حکمرانی اور طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ بندی میں چین کی کامیابیاں ترقی پذیر ممالک کے لئے قابلِ تقلید مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک-چین تعاون کے اگلے مرحلے میں تعلیم، سائنسی تحقیق، مہارتوں کی ترقی، اختراع، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور جامعات و تحقیقی اداروں کے درمیان روابط کو مزید فروغ دینا ناگزیر ہے۔

انہوں نے پاکستان اور چین کو ا?ہنی بھائیقرار دیتے ہوئے چین۔پاکستان ہم نصیب معاشرے کے وڑن کے لئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ بھی کیا۔پاکستان میں چینی سفارتخانہ کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن شی یوآن چیانگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے گزشتہ 105 سالوں میں چین کو ایک خوشحال، مستحکم اور عالمی سطح پر بااثر ملک بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت اعلیٰ معیار کے سی پیک تعاون، چین-پاکستان ہم نصیب معاشرے کے ایکشن پلان اور عالمی ترقی و سلامتی کے مختلف اقدامات کے ذریعے پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لئے پٴْرعزم ہے۔سیمینار کے کلیدی مقرر سردار مسعود خان نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی دوراندیش قیادت اور پالیسیوں کے تسلسل نے چین کی جدیدکاری اور عالمی کردار کو نئی جہت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری خطے میں اقتصادی تعاون، علاقائی روابط اور مشترکہ خوشحالی کے اہم ستون بن چکے ہیں جبکہ سی پیک 2.0 کے تحت صنعتی ترقی، زراعت، جدید ٹیکنالوجی اور فنی تربیت کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔انسٹیٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد کے چیئرمین خالد محمود نے کہا کہ دوراندیش قیادت، مسلسل اصلاحات، تکنیکی جدت اور طویل المدتی منصوبہ بندی نے چین کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت تعاون اب ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، گرین ڈویلپمنٹ، زرعی جدیدکاری اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے نئے شعبوں تک بھی پھیل چکا ہے۔سابق سفیر نائلہ چوہان نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، تعلیم، صحت، سیاحت، اختراع اور نوجوانوں کے تبادلوں سمیت ابھرتے ہوئے شعبوں میں پاک۔چین تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر جبران حسین رضا نے کہا کہ سی پیک 2.0 سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو اپنی ادارہ جاتی اور صنعتی استعداد مزید مضبوط بنانا ہوگی۔ڈاکٹر عبدالواحد تونسوی نے کہا کہ عوامی مرکزیت، ادارہ جاتی اصلاحات، موثر وسائل کے استعمال اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری چین کی ترقی کی بنیاد ہیں جنہوں نے ملک کی پیداواری صلاحیت اور انسانی وسائل کو مستحکم بنایا ہے۔

سیمینار کے اختتام پر مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت نے چین کو عالمی اقتصادی طاقت میں تبدیل کیا ہے اور اس کا ترقیاتی ماڈل بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے لئے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ شرکانے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، چین-پاکستان اقتصادی راہداری اور دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں پاک-چین ہمہ موسمی سٹریٹجک تعاون، عوامی روابط اور چین-پاکستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔