پاکستان: 2025 افغان پناہ گزینوں کے لیے مشکل سال رہا، یو این ادارہ

یو این ہفتہ 4 جولائی 2026 03:30

پاکستان: 2025 افغان پناہ گزینوں کے لیے مشکل سال رہا، یو این ادارہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 04 جولائی 2026ء) پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق پاکستان میں لاکھوں افغان پناہ گزینوں کے لیے سال 2025 تحفظ اور قانونی سہارا محدود ہوتا گیا۔ حکومتی پالیسیاں تبدیل ہونے سے ان کی آزادانہ نقل و حرکت، بنیادی سہولیات تک رسائی اور روزمرہ زندگی متاثر ہوئی۔

یو این ایچ سی آر کی پاکستان سے متعلق سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں مقیم غیر قانونی غیر ملکیوں کو واپس بھیجنے سے متعلق منصوبے کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے نفاذ کے ساتھ مہاجر بستیوں بارے حکومتی فیصلوں اور ان کی حیثیت میں تبدیلیوں کے باعث پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کے لیے تحفظ کی گنجائش نمایاں طور پر سکڑ گئی۔

بہت سے مہاجر خاندان غیر یقینی حالات اور گرفتاری کے خوف سے گھروں تک محدود ہو گئے اور ہزاروں نے مخدوش مستقبل کے باوجود افغانستان واپسی کا فیصلہ کیا۔

(جاری ہے)

اس صورتحال میں یو این ایچ سی آر نے اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے بجائے انہیں بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالا اور مشکل ترین حالات میں بھی ان افغانوں کو تحفظ اور امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا۔

© UNHCR/Oxygen Empire Media Production پاک افغان کشیدگی کے باعث افغانستان میں لاتعداد خاندان گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

تحفظ کا بدلتا ماحول

2025 میں پاکستان کی حکومت کے اقدامات نے پناہ گزینوں کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ نئی پالیسیوں کے تحت کارآمد ویزا نہ رکھنے والے افغان شہری غیر قانونی غیر ملکی قرار دیے گئے جن میں رجسٹریشن کے ثبوت (پی او آر) والے کارڈ کے حامل افغان بھی شامل تھے۔

ملک بھر میں 54 مہاجر بستیوں کی سرکاری حیثیت ختم کر دی گئی جبکہ رجسٹریشن دستاویزات کی معیاد ختم ہونے سے ہزاروں افراد کے لیے اپنی قانونی شناخت برقرار رکھنا مشکل ہو گیا۔

مستقبل کے بارے میں غیر یقینی نے ان لوگوں کی روزمرہ زندگی کو براہ راست متاثر کیا۔ گرفتاری کے خوف نے بہت سے پناہ گزینوں کو گھروں تک محدود کر دیا جس سے ان کی روزگار، صحت اور تعلیم تک رسائی متاثر ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق، پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کی گرفتاریوں کے واقعات میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 12 گنا اضافہ ہوا جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ افغان شہری رضاکارانہ طور پر یا جبراً افغانستان واپس چلے گئے۔

اس عرصہ میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں بچوں کے اندراج اور صحت کی سہولیات تک رسائی میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

نئی حکمت عملی

ایسے حالات میں 'یو این ایچ سی آر' نے اپنے طریقہ کار میں تبدیلیاں کیں۔ قومی ہیلپ لائن، ڈیجیٹل رابطوں، آن لائن مشاورت اور لوگوں تک رسائی کے نظام کے ذریعے پناہ گزینوں کو معلومات، قانونی رہنمائی اور ضروری خدمات فراہم کی گئیں اور انہیں غیر ضروری سفر اور ممکنہ گرفتاری کے خطرات سے بھی محفوظ رکھا گیا۔

قانونی معاونت اس حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ رہی۔ ادارے اور اس کے شراکت داروں نے دس قانونی امدادی مراکز کے ذریعے ایک لاکھ چھ ہزار سے زیادہ پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد جبکہ 7,600 سے زیادہ بے وطن لوگوں کو قانونی مدد فراہم کی۔ اس معاونت میں قانونی مشاورت، عدالتوں اور پولیس کے سامنے نمائندگی اور ایسے افراد کے تحفظ کے لیے براہ راست مداخلت شامل تھی جنہیں افغانستان واپسی کی صورت میں شدید خطرات لاحق تھے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں 21 افراد کی قید سے رہائی عمل میں آئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 'یو این ایچ سی آر' نے ایسے افغان شہریوں کے لیے خصوصی تحفظاتی طریقہ کار کی وکالت جاری رکھی جو افغانستان واپسی کی صورت میں سنگین خطرات سے دوچار ہو سکتے تھے۔ ان میں صحافی، انسانی حقوق کے کارکن، اقلیتی برادریاں، خواتین کی سربراہی میں خاندان اور دیگر کمزور طبقات شامل تھے۔

© UNHCR/Hyejin Lee مہاجرین اور پناہ گزینوں کے لیے قائم یو این ایچ سی آر کی ہیلپ لائن میں عملہ مصروف عمل ہے۔

مشکل حالات میں مثبت پیش رفت

تحفظ سے متعلق مسائل کے باوجود 'یو این ایچ سی آر' نے ایسے پروگرام جاری رکھے جن کا مقصد فوری امداد کے ساتھ طویل المدتی خودمختاری اور سماجی استحکام کو فروغ دینا تھا۔

1,700 سے زیادہ طالبات کو تیز رفتار تعلیمی پروگراموں کے ذریعے گھریلو تعلیمی مراکز میں تعلیم فراہم کی گئی، جبکہ اتنی ہی طالبات کو محفوظ آمدورفت کے لیے مالی معاونت دی گئی۔

اعلیٰ تعلیم کے میدان میں 261 طلبہ و طالبات نے 'ڈی اے ایف آئی' وظائف اور دیگر پروگراموں کے ذریعے اپنی تعلیم جاری رکھی

خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے 21 محفوظ مراکز فعال رہے۔ صنفی بنیاد پر تشدد سے متعلق خدمات کے بارے میں آگاہی میں اضافہ ہوا جبکہ 14,700 سے زیادہ بچوں کو تحفظ کے لیے مدد معانت فراہم کی گئی۔ ہر ایسے بچے کے لیے متبادل نگہداشت کا انتظام بھی کیا گیا جو اپنے والدین یا سرپرست سے جدا یا محروم ہو چکا تھا۔

بے وطنی کے خاتمے میں بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ کراچی میں 3,758 بے وطن افراد کو شہریت یا قانونی دستاویزات کے حصول میں معاونت فراہم کی گئی جبکہ پہلی مرتبہ 148 افراد کی شہریت کی سرکاری طور پر تصدیق ہوئی۔

ماحولیاتی استحکام کی کوششیں

'یو این ایچ سی آر' نے اپنی سرگرمیوں میں ماحولیاتی استحکام کو بھی مدنظر رکھا۔ ملک بھر میں سکولوں اور مراکز صحت سمیت 54 سرکاری اداروں میں شمسی توانائی کے نظام نصب کیے گئے جبکہ 6,500 سے زیادہ گھرانوں کو شمسی توانائی کے نظام فراہم کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق، ان منصوبوں سے سالانہ تقریباً 30 لاکھ یونٹ صاف توانائی پیدا ہو رہی ہے جس سے کاربن کے اخراج میں کمی اور سرکاری اداروں کے بجلی کے اخراجات میں نمایاں بچت متوقع ہے۔ اسی طرح، پیشہ ورانہ تربیت اور چھوٹے کاروباروں کی معاونت نے متعدد پناہ گزین خاندانوں کی آمدنی بہتر بنانے میں مدد دی۔

© IOM پاکستان سے وطن لوٹنے والے افغان مہاجرین کا ایک قافلہ (فائل فوٹو)۔

انسانی تحفظ اور مستقبل کی راہ

پاکستان کے لیے ادارے کی یہ رپورٹ ایک ایسے سال کی تصویر پیش کرتی ہے جس میں تحفظ کی گنجائش مسلسل محدود ہوتی گئی، لیکن امدادی کارروائیوں کو بدلتے حالات کے مطابق ڈھالا جاتا رہا۔

مالی وسائل کی کمی، پالیسی میں تبدیلیوں اور علاقائی غیر یقینی صورتحال کے باوجود 'یو این ایچ سی آر' نے بنیادی تحفظ سے متعلق خدمات جاری رکھیں اور اس بات پر زور دیا کہ افغان مہاجرین کی محفوظ اور باوقار رضاکارانہ واپسی، تیسرے ممالک میں آبادکاری، متبادل قانونی راستے اور مضبوط حفاظتی نظام ہی ان کے مسائل کا پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔

گزشتہ سال کے حالات نے واضح کر دیا کہ انسانی تحفظ صرف بحرانوں کی غیرموجودگی کا نام نہیں بلکہ ایسے حالات میں بھی بنیادی حقوق، وقار اور امید کو برقرار رکھنے کی مسلسل کوشش کا نام ہے جہاں تحفظ کی گنجائش روز بروز محدود ہو رہی ہو۔