بھارت، یوپی میں نام نہاد گائے کے محافظوں کا مسلمان شخص پر حملہ، مذہبی رسوم ادا کرنے پر مجبور کیا

اتوار 5 جولائی 2026 11:42

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 جولائی2026ء) بی جے پی کے زیر اقتداربھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں نام نہاد گائے کے محافظوں نے ایک مسلمان شخص پر حملہ کیا اور اسے ہندوئوں کی مذہبی رسم ادا کرنے پر مجبور کیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق” سناتن گورکشا دل “نامی ہندو انتہاپسند تنظیم کے تقریباً 15 سے 20 ارکان نے مسلمان شخص پر گائے کے بارے میں مبینہ طور پر توہین آمیزبات کرنے کا الزام لگایا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ معافی مانگنے کے باوجود ہندوا نتہا پسند اسے مارتے پیٹتے ہیں،اسے اپنے والد کو فون کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور اسے دھمکیاں دیتے ہیں۔متاثرہ شخص کو گھسیٹ کر ایک شیڈ میں لے جایا جاتا ہے، اسے بچھڑے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے، اس کی ٹانگوں کو چھونے، اس کی پوجا کرنے اور ہندوتوا نعرےلگانے پر مجبور کیاجاتا ہے۔

(جاری ہے)

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سید نصیر حسین نے اس واقعے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے انسانی وقار اور آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے اتر پردیش کی حکومت پر زور دیا کہ وہ ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے سے ریاست میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت ظاہرہوتی ہے۔