دورہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کیلئے قومی سکواڈ کا اعلان، بابر اعظم کو دوبارہ کپتان مقرر کردیا گیا

عاقب جاوید کے ہمراہ پریس کانفرنس میں سلیکشن کمیٹی کے دیگر ارکان اسد شفیق اور مصباح الحق بھی موجود تھے

Sajid Ali ساجد علی اتوار 5 جولائی 2026 12:21

دورہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کیلئے قومی سکواڈ کا اعلان، بابر اعظم کو ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جولائی 2026ء) پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے دورۂ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا باقاعدہ اعلان کر دیا، اسٹار بیٹر بابر اعظم کو دوبارہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسکواڈ کا اعلان سلیکشن کمیٹی کے اہم رکن عاقب جاوید نے پریس کانفرنس کے دوران کیا، جہاں ان کے ہمراہ کمیٹی کے دیگر ارکان اسد شفیق اور سابق کپتان مصباح الحق بھی موجود تھے، سلیکشن کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ 16 رکنی اسکواڈ میں کپتان بابر اعظم، شان مسعود، امام الحق، اذان اویس، عبداللہ فضل، سلمان علی آغا، غازی غوری اور مہران ممتاز یا محمد رضوان (بطور وکٹ کیپر بیٹر) شامل ہیں۔

سلیکشن کمیٹی نے بتایا کہ بالنگ اور آل راؤنڈر شعبے میں ساجد خان، علی عثمان، عامر جمال، محمد علی، محمد عباس، عبید شاہ، اویس ظفر اور خرم شہزاد کو اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر کے بیٹر سعود شکیل فٹنس مسائل کی وجہ سے اس اہم ترین دورے کے سکواڈ میں جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں، ڈاکٹرز اور سلیکشن کمیٹی کے مطابق سعود شکیل کو مکمل ریکوری کے لیے وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ آنے والے ہوم سیزن کے لیے مکمل فٹ ہو سکیں۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے اس طویل غیر ملکی دورے کا آغاز ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچز کی سیریز سے کرے گی، شیڈول کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم 18 جولائی کو ٹراوبا کے میدان میں ایک وارم اپ میچ کھیل کر کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرے گی، جس کے بعد پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا باقاعدہ ٹیسٹ میچ 25 سے 29 جولائی تک ٹراوبا میں ہی کھیلا جائے گا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سلیکشن کمیٹی کے سربراہ عاقب جاوید نے کمیٹی کے ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اور اسد شفیق گزشتہ 18 ماہ سے سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہیں، جبکہ سابق کپتانوں مصباح الحق اور سرفراز احمد کو کمیٹی میں شامل ہوئے ابھی 6 ماہ کا عرصہ ہوا ہے، کرکٹ کے 3 الگ فارمیٹس ہیں اور سلیکشن کے وقت ہمیشہ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کس کھلاڑی کی کس فارمیٹ میں حالیہ پرفارمنس کیا ہے، اور اسی بنیاد پر بابر اعظم کو دوبارہ ٹیسٹ فارمیٹ کی کمان سونپی گئی ہے۔