صرف 9 گھنٹوں میں گروپ کیپٹن عاصم طارق کا قاتل کیسے پکڑا گیا؟

سیف سٹی کیمروں کو چکمہ دینے کی کوشش، حلیہ بدل کر فیض آباد کی رائیڈ، پھر لاہور کے ٹکٹ اور پستول والے بیگ کی ڈرامائی انداز میں برآمدگی تک اسلام آباد پولیس کا سنسنی خیزانٹیلیجنس آپریشن

Sajid Ali ساجد علی پیر 6 جولائی 2026 11:52

صرف 9 گھنٹوں میں گروپ کیپٹن عاصم طارق کا قاتل کیسے پکڑا گیا؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جولائی 2026ء) وفاق دارالحکومت اسلام آباد کے شاہین چوک نائنتھ ایونیو سٹی زون پر پاک فضائیہ کے سینیئر افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق کو فائرنگ کر ے شہید کرنے والے ملزم سعد عباسی کی گرفتاری کے انٹیلیجنس آپریشن کی مکمل تفصیلات سامنے آ گئیں۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق نائنتھ ایونیو پر واردات کے بعد ملزم سعد عباسی اپنی موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا، آئی جی اسلام آباد کے حکم پر ایس پی سٹی ایاز حسین نے فوری کرائم سین کا چارج سنبھالا، پولیس نے سیف سٹی کے جدید ترین کیمروں کی مدد سے ملزم کا پیچھا کیا اور ٹریکنگ کے ذریعے معلوم کیا کہ ملزم سب سے پہلے غوری ٹاؤن پہنچا، وہاں ملزم نے ایک گلی میں اپنے دوست کے گھر کے باہر موٹر سائیکل کھڑی کی اور پکڑے جانے کے خوف سے اس پر کپڑا ڈال کر چھپا دیا۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ موٹر سائیکل چھپانے کے بعد ملزم سعد عباسی گلی سے باہر نکلا اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے ایک آن لائن بائیک رائیڈ بک کروائی، وہ اس بائیک پر بیٹھ کر قریبی مارکیٹ پہنچا، وہاں ملزم نے اپنے ایک اور دوست کی فارمیسی پر اپنا بیگ رکھا اور ساتھ والی دکان میں جا کر نئی شرٹ خریدی، واردات کے وقت ملزم نے گرین رنگ کی شرٹ پہن رکھی تھی، جو اس نے اتار دی اور نیلے رنگ کی نئی ٹی شرٹ پہن کر اپنا حلیہ بدل لیا۔

بتایا جارہا ہے کہ حلیہ بدلنے کے بعد ملزم سعد عباسی اسی آن لائن بائیک رائیڈر کے ساتھ فیض آباد انٹرچینج کی طرف روانہ ہو گیا، پولیس نے جدید کیمروں اور ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کی مدد سے اس آن لائن رائیڈر کو ٹریس کرکے فوری حراست میں لیا اور اس کا بیان ریکارڈ کیا، رائیڈر نے بتایا کہ اس نے ملزم کو فیض آباد انٹرچینج پر 'اسکائی ویز' بس ٹرمینل کے پاس ڈراپ کیا تھا، پولیس ٹیم نے جب اسکائی ویز کے اڈے پر چھاپہ مارا تو ریکارڈ سے پتہ چلا ملزم سعد عباسی اسلام آباد سے فرار ہونے کے لیے لاہور کی بس کا ٹکٹ لے کر روانہ ہو چکا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ اس کے بعد اسلام آباد پولیس نے فوری طور پر لاہور پولیس کو الرٹ کیا اور ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں روانہ کیں، اسی دوران ایس پی سٹی نے پولیس کو تین حصوں میں تقسیم کیا، ایک ٹیم موٹر سائیکل کے پاس، دوسری فارمیسی اور تیسری فیض آباد بھیجی گئی، شام ساڑھے 6 بجے کیس میں اس وقت نیا موڑ آیا جب موٹر سائیکل والے دوست کو ایک نامعلوم نمبر سے سعد عباسی کی کال آئی، جس میں اس نے کہا "میں اپنی موٹر سائیکل لینے گھر آ رہا ہوں"، اس کے ٹھیک 5 منٹ بعد ملزم نے فارمیسی والے دوست کو بھی فون کیا اور وہاں آنے کا کہا۔

کہا جارہا ہے کہ ملزم نے دراصل پولیس کو چکمہ دینے کے لیے اپنا ارادہ بدلا تھا، فارمیسی میں موجود اس کے بیگ میں واردات میں استعمال ہونے والا پستول اور خون آلود کپڑے موجود تھے، ملزم خود دکان کے اندر جانے کے بجائے باہر ہی چھپ گیا اور اس نے ایک بچے کو فارمیسی بھیجا کہ "سعد عباسی کا بیگ لے آؤ"، بچہ جیسے ہی فارمیسی سے بیگ لے کر آگے بڑھا، وہاں گھات لگائے سول کپڑوں میں موجود اسلام آباد پولیس کی الرٹ ٹیم نے بچے کا پیچھا کیا اور آگے کھڑے اصل قاتل سعد عباسی کو گرفتار کرلیا۔