اس معاملے میں اسحاق ڈار کو رگڑنا کسی بھی طرح جائز نہیں، سہیل وڑائچ کا رضا ڈار کیس پر ردعمل

اندازہ ہے کہ نائب وزیراعظم شدید دُکھّی ہوں گے، ان کے نواسے کی گرفتاری ہوگئی تو انہیں ذمہ دار ٹھہرانا کسی بھی طرح جائز نہیں، کوئی والد اپنے بیٹے کے جرائم کا ذمہ دار کیسے ہوسکتا ہے؟ تجزیہ کار کا کالم

Sajid Ali ساجد علی پیر 6 جولائی 2026 13:24

اس معاملے میں اسحاق ڈار کو رگڑنا کسی بھی طرح جائز نہیں، سہیل وڑائچ کا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جولائی 2026ء) ملک کے معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اپنے ایک کالم میں رضا ڈار کیس پربھی تبصرہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق روزنامہ جنگ کیلئے اپنے ایک کالم میں انہوں نے لکھا کہ سادہ لفظوں میں بات کی جائے تو نونیوں کو3بڑے گروپس میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، ایک نمایاں گروہ دکھی گروپ کا ہے،دوسرے کو سکھی گروپ کا نام دیا جاسکتا ہے جبکہ تیسرا دکھی سکھی گروپ ہے جو کبھی دکھی اور کبھی سکھی ہونے کے متضاد احساسات سے گزرتا ہے۔

سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ وفاقی کابینہ میں دُکھّی اور سُکھّی دونوں طرح کے وزیر ہیں ایک سب سے لاڈلے ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کا ذہن کمپیوٹر سے بھی تیز اور ان کا تجزیہ چانکیہ سے بھی زیادہ پُرمغز ہے ، ان کا مزاج تُنک ہے وگرنہ مقتدرہ اور وزیروں کے پردھان کے وہ پسندیدہ ترین ہیں مگر کئی وزیر ان کے رویےکے شاکی بھی ہیں اور شاید حسد کا شکار بھی مگروہ لاڈلے وزیر اور ان کی متعلقہ افسر شاہی ساری کی ساری سُکھّی ہے مگر دوسری افسر شاہی کی وہ لابی جو کبھی ان کے خلاف رہی یا جسے یہ پسند نہیں کرتےوہ ساری کی ساری دُکھّی ہے مگر ان کا کوئی بس نہیں چل رہا۔

(جاری ہے)

تجزیہ کار نے مزید لکھا کہ اندازہ ہے کہ نائب وزیراعظم اسحق ڈار شدید دُکھّی ہونگے کیونکہ سب سُکھّی انکے درپے ہیں اگر انکے نواسے کی گرفتاری ہوگئی تو اس کے بعد ان کو ذمہ دار ٹھہرانا کسی بھی طرح جائز نہیں کوئی والد اپنے بیٹے کے جرائم کا ذمہ دار کیسے ہوسکتا ہے؟ مذہبی، قانونی اور اخلاقی طور پر انکے سیاسی خیالات اور ان کے سیاسی فیصلوں پر تنقیدبجا لیکن اس معاملے میں انہیں رگڑنا کسی بھی طرح جائز نہیں۔

بے شک نواسے کو قانون کی سُولی پر چڑھا دیں مگر نانا کی عزت کا جنازہ نہ نکالیں۔