پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قاتل کی گرفتاری میں نئے انکشافات

ملزم کے جائے وقوعہ سے بھاگنے سے لے کر بچے کے ذریعے بیگ منگوانے تک کی سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے آگئیں

Sajid Ali ساجد علی پیر 6 جولائی 2026 13:06

پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قاتل کی گرفتاری میں نئے انکشافات
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جولائی 2026ء) وفاقی دارالحکومت میں پاک فضائیہ کے سینئر افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق کو شہید کرنے والے ملزم سعد عباسی کی گرفتاری کے حوالے سے مزید انکشافات ہوئے ہیں، واقعے کے بعد مختلف مقامات سے ملزم کے فرار کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی منظرِ عام پر آ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق شاہین چوک پر گروپ کیپٹن کو گولی مارنے کے فوراً بعد ملزم سعد عباسی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بھاگنے کا پلان بنایا، اس نے سب سے پہلے اپنے ایک دوست کو کال کی اور پھر پولیس ٹریکنگ سے بچنے کے لیے اپنا موبائل فون فوری طور پر بند کر دیا، ملزم سیدھا غوری ٹاؤن پہنچا اور وہاں ایک گلی میں اپنی موٹر سائیکل کھڑی کرکے چھپا دی۔

بتایا گیا ہے کہ غوری ٹاؤن سے ملزم نے ایک آن لائن 'بائیکیا' رائیڈ لی اور اپنے ایک اور دوست کے میڈیکل سٹور پر پہنچا، ملزم نے اپنا بیگ وہیں میڈیکل سٹور پر رکھا جبکہ واردات میں استعمال ہونے والی پستول کو کہیں اور چھپا دیا، اس کے بعد وہ کپڑوں کی ایک دکان پر گیا اور اپنی ہری شرٹ اتار کر نئی شرٹ پہنی تاکہ پولیس اس کے حلیے سے اسے پہچان نہ سکے، حلیہ بدلنے کے بعد وہ فیض آباد بس اڈے پہنچا اور وہاں سے لاہور جانے والی بس کا ٹکٹ کٹوا کر اسلام آباد سے نکل گیا۔

(جاری ہے)

دوسری طرف اسلام آباد پولیس ملزم کی بند موبائل لوکیشن اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے اس دوست تک پہنچ چکی تھی جس سے سعد عباسی نے واردات کے فوراً بعد پہلی کال پر رابطہ کیا تھا، ملزم سعد عباسی نے پولیس کو دھوکا دینے کیلئے ایک چال چلی کہ وہ لاہور جانے کے بجائے بیچ راستے میں ہی موٹروے پر واقع بھیرہ انٹرچینج کے مقام پر بس سے نیچے اترگیا اور وہاں سے واپس اسلام آباد کیلئے روانہ ہوگیا، ملزم کا خیال تھا پولیس سمجھے گی وہ لاہور جا چکا ہے اور اسے لاہور میں ڈھونڈتی رہے گی جبکہ وہ اسلام آباد میں محفوظ رہے گا مگر اس کا یہ داؤ الٹا پڑگیا۔

معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد واپس پہنچ کر ملزم سعد عباسی نے کسی دوسرے شخص سے موبائل فون مانگا اور اپنے اسی دوست کو دوبارہ کال کی کہ "میں اپنا سامان اور بیگ لینے واپس آ رہا ہوں"، جس وقت ملزم نے فون کیا، پولیس پہلے سے ہی اس کے دوست کے پاس موجود تھی، سعد عباسی میڈیکل سٹور کے قریب پہنچا لیکن خود اندر جانے کے بجائے ایک بچے کو دکان کے اندر بھیجا کہ "میرا بیگ اٹھا کر لے آؤ"، بچہ جیسے ہی سٹور سے بیگ لے کر ملزم سعد عباسی کے پاس پہنچا تو پہلے سے گھات لگائے بیٹھی پولیس نے ملزم کو پکڑلیا۔