تعلیمی ایمرجنسی ناکام، ملک میں 2 کروڑ 60 لاکھ بچے سکولوں سے باہر، دنیا میں دوسرا نمبر

پنجاب میں 64 لاکھ بچوں نے کبھی اسکول کا منہ ہی نہیں دیکھا، فنڈز کی کمی اور ناقص گورننس اصل رکاوٹ قرار دیدی گئی؛ سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ

Sajid Ali ساجد علی پیر 6 جولائی 2026 11:12

تعلیمی ایمرجنسی ناکام، ملک میں 2 کروڑ 60 لاکھ بچے سکولوں سے باہر، دنیا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جولائی 2026ء) پاکستان میں تعلیمی بحران کے حوالے سے سول سروسز اکیڈمی کی جانب سے تیار کی گئی ایک جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کو دو سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود اڑھائی کروڑ سے زائد سکول سے باہر ہیں، بچوں کو تعلیمی دائرے میں لانے کی تمام کوششیں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں، پاکستان اس وقت دنیا میں تعلیمی محرومی کا شکار دوسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 8 مئی 2024ء کو ملک میں قومی تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تھا جس سے سیاسی سطح پر توجہ تو حاصل ہوئی لیکن دو سال گزرنے کے بعد بھی گہرے ساختی مسائل، مسلسل مالی کمزوری، ناکافی فنڈنگ، غیر مربوط انتظامی ڈھانچے، ناقص گورننس اور صوبوں کی غیر مساوی استعداد کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے، تمام صوبوں نے 'قومی تعلیمی ایکشن پلان 2026ء' کے تحت روڈ میپ تو بنائے مگر اصل مسئلہ ان پر مؤثر عملدرآمد کا نہ ہونا ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت سکول سے باہر بچوں کی مجموعی تعداد 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ کے درمیان ہے، آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 اے کے تحت ریاست ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم دینے کی آئینی ضمانت دیتی ہے، لیکن یہ ضمانت کئی دہائیوں سے صرف کاغذوں تک محدود ہے، 1990ء سے 2010ء کی دہائی تک اس کی نگرانی اکیڈمی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ مینجمنٹ کے پاس تھی مگر سرکاری انفراسٹرکچر آبادی بڑھنے کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکا، جس کے باعث نجی سکولوں کا دائرہ بڑھا۔

معلوم ہوا ہے کہ رپورٹ میں پنجاب کو ملک کا سب سے بڑا تعلیمی بوجھ اٹھانے والا صوبہ قرار دیا گیا ہے، پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 2026ء کی بنیادی رپورٹ بتاتی ہے کہ یہاں سکول سے باہر بچوں کی تعداد 96 لاکھ سے 1 کروڑ 4 لاکھ کے درمیان ہے، اس ڈیٹا کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ 64 لاکھ بچوں نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ ہی نہیں دیکھا، جبکہ 31 لاکھ 60 ہزار بچے پرائمری یا مڈل کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑ چکے ہیں، پنجاب کا اصل چیلنج بچوں کا داخلہ کرانا نہیں بلکہ انہیں نظامِ تعلیم میں برقرار رکھنا ہے۔

اکیڈمی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ چونکہ ہر صوبے کو مختلف نوعیت کے ساختی مسائل کا سامنا ہے، اس لیے پورے ملک پر ایک ہی یکساں تعلیمی پالیسی مسلط کر کے نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے، صوبہ سندھ پرائمری تعلیم کے بعد تعلیمی نظام کے مکمل انہدام اور پے در پے آنے والی موسمیاتی آفات سیلاب وغیرہ کا شکار ہے، خیبرپختونخواہ طویل شورش، دشوار گزار جغرافیائی حالات اور بالخصوص دور دراز علاقوں میں خواتین اساتذہ کی شدید کمی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

بتایا گیا ہے کہ بلوچستان وسیع و عریض فاصلے، شدید کمزور صوبائی ادارے اور غیر فعال یعنی گھوسٹ سکولوں کے باعث بدترین تعلیمی بحران کا سامنا کر رہا ہے، وفاقی علاقوں اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر میں مجموعی طور پر سکولوں میں بچوں کا اندراج دیگر صوبوں سے بہتر ہے، تاہم شہروں اور دیہاتوں کے درمیان اندرونی عدم مساوات اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پالیسی رپورٹ کے آخر میں تجویز دی گئی ہے کہ جب تک تعلیم پر سرمایہ کاری یعنی فنڈنگ میں فوری اور بڑا اضافہ نہیں کیا جاتا اور طرزِ حکمرانی کو درست نہیں کیا جاتا، تب تک پاکستان کی آنے والی نسلیں اسی طرح جہالت اور تعلیمی محرومی کے اندھیروں میں ڈوبی رہیں گی۔