لاہور ڈیفنس غیرملکی خواتین مبینہ اغواء و زیادتی کیس میں پیشرفت

3 ملزمان کا ڈی این اے میچ ہوگیا، ملزم نواز نے سب سے پہلے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسی نے دیگر ملزمان کو بھی اس فعل پر اکسایا؛ تفتیشی ذرائع کے حوالے سے انکشافات

Sajid Ali ساجد علی پیر 6 جولائی 2026 12:30

لاہور ڈیفنس غیرملکی خواتین مبینہ اغواء و زیادتی کیس میں پیشرفت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جولائی 2026ء) پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغواء اور زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں تفتیش کے دوران پیشرفت سامنے آئی ہے، واقعے میں ملوث تین مرکزی ملزمان کا ڈی این اے متاثرہ خاتون سے میچ کرگیا۔ اطلاعات کے مطابق فارنزک لیبارٹری کی رپورٹ میں گرفتار تین ملزمان کا ڈی این اے نمونہ متاثرہ غیر ملکی خاتون سے میچ کرچکا ہے، تفتیشی ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں ملزم نواز نامی شخص کا مرکزی کردار ہے، ملزم نواز نے ہی سب سے پہلے مذکورہ غیر ملکی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملزم نواز نے ناصرف خود یہ گھناؤنا جرم کیا بلکہ اس نے موقع پر موجود اپنے دیگر ساتھی ملزمان کو بھی اس فعل کے لیے اکسایا، نواز کے اکسانے پر ہی دیگر 2 ملزمان ساجد اور سکندر نے بھی باری باری غیر ملکی خاتون کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا، پولیس نے 8 ملزمان کے ڈی این اے سیمپل کراس میچ کے لیے فرانزک لیبارٹری بھجوائے تھے، دیگر ملزمان کے ڈی این اے سیمپلز کا مزید تجزیہ ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ اس کیس میں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق اب تک 8 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ گاڑی کے ایکسیڈنٹ کے بعد لڑکیاں ایک اسٹور میں چھپ گئی تھیں جہاں سے انہیں تحویل میں لیا گیا تھا، تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ مثبت آنے اور دفعہ 164 کا بیان پہلے ہی ریکارڈ ہونے کے بعد اب تمام ملزمان کے خلاف چالان مکمل کرکے متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔