رضا ڈار کیس میں ایک اور پرچہ کٹ گیا، شہری کی گاڑی کو ہٹ کرنے پر مقدمہ درج

شہری کا 3 لاکھ روپے نقصان کا دعویٰ، متاثرہ فریق کی جانب سے کینٹ تھانے میں ایف آئی آر کٹوا دی گئی

Sajid Ali ساجد علی پیر 6 جولائی 2026 12:18

رضا ڈار کیس میں ایک اور پرچہ کٹ گیا، شہری کی گاڑی کو ہٹ کرنے پر مقدمہ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جولائی 2026ء) لاہور ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغواء اور زیادتی کے ہائی پروفائل کیس سے منسلک ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا، لاہور کے تھانہ ساؤتھ کینٹ میں ملزم کے خلاف ایک شہری کی مدعیت میں تیز رفتاری اور گاڑی کو نقصان پہنچانے کی ایف آئی آر کاٹ لی گئی۔ اطلاعات کے مطابق یہ مقدمہ لاہور کے رہائشی شہری محمد عثمان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، مدعی نے پولیس کو دیئے گئے تحریری بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ یکم جولائی 2026ء کو شام پونے 8 بجے وہ کینٹ گارڈن سے بھٹہ چوک کی طرف جا رہے تھے، جیسے ہی وہ ایئرپورٹ روڈ پر واقع ٹویوٹا شو روم کے قریب پہنچے تو ملزم نے اپنی 'لکسس' گاڑی انتہائی تیز رفتاری اور غفلت سے چلاتے ہوئے ہماری گاڑی کو زوردار ٹکر ماری۔

(جاری ہے)

مدعی عثمان کا ایف آئی آر میں کہنا ہے کہ ملزم کی گاڑی کے ہٹ کرنے سے ان کی کار کی دائیں سائیڈ کی ڈگی، بمپر، بیک سائیڈ کی دائیں لائٹ اور اسٹیپنی ٹب وغیرہ بری طرح ٹوٹ گئے، اس حادثے کے نتیجے میں ہماری گاڑی کو تقریباً 3 لاکھ روپے مالیت کا شدید مالی نقصان پہنچا، گاڑی کو ٹکر مارنے کا واقعہ پیش آتے ہی ملزم حادثے کے فوراً بعد اپنی گاڑی سمیت موقع سے فرار ہو گیا۔

FIR
بتایا گیا ہے کہ ساؤتھ کینٹ پولیس نے عثمان کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 279 (تیز رفتاری یا غفبت سے گاڑی چلانا) اور دفعہ 427 (شخصی املاک کو نقصان پہنچانا) کے تحت مقدمہ نمبر 1807/26 درج کر لیا ہے، یہ مقدمہ تھانے کے افسر قمر اسلام نے 4 جولائی 2026ء کو شام سوا 8 بجے باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنایا، ایف آئی آر کے اندراج کے بعد مقدمے کی باقاعدہ تفتیش تھانہ جنوبی چھاؤنی کے انویسٹی گیشن ونگ کے اے ایس آئی محمد عباس کے سپرد کر دی گئی، پولیس نے جائے وقوعہ سے سائنسی شواہد اکٹھے کرنے اور تفتیش کا دائرہ وسیع کرنے کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ یہ حادثہ ٹھیک اسی وقت پیش آیا تھا جب ملزم رضا ڈار غیر ملکی لڑکیوں کو مبینہ طور پر کار میں لے جا رہا تھا اور ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق اسی ایکسیڈنٹ کے بعد لڑکیاں گاڑی سے نکل کر قریبی اسٹور میں چھپ گئی تھیں، اب اس روڈ ایکسیڈنٹ کے دوسرے متاثرہ فریق کی درخواست پر نئی ایف آئی آر درج ہونے سے ملزم کے خلاف قانونی شکنجہ مزید مضبوط ہو گیا۔