ٹیلی کام صارفین کا ڈیٹا غیرقانونی طور پر فروخت ہونے کا انکشاف ،پی ٹی اے کی شکایت پر این سی سی آئی اے کی لاہور میں کاروائی

جمعرات 16 جولائی 2026 22:30

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 جولائی2026ء) ٹیلی کام صارفین کا ڈیٹا غیرقانونی طور پر فروخت ہونے کا انکشاف ہواہے اورپی ٹی اے کی شکایت پر این سی سی آئی اے کی لاہور میں کاروائی کے دوران ٹیلی کام صارفین کا ڈیٹا غیرقانونی طور پر فروخت کرنیوالے تین ملزمان کو گرفتارکر لیا گیا ہے ۔ ملزمان سے چھاپے کے دوران ملزمان کے قبضے سے پانچ موبائل فون، آٹھ بائیومیٹرک ویریفیکیشن ڈیوائسز اور 43 مشتبہ سمیں برآمد ہوئیں۔

پی ٹی اے کے مطابق ضبط شدہ موبائل فونز کے فرانزک تجزیے میں واٹس ایپ کے ذریعے خفیہ ٹیلی کام ڈیٹا کی غیرقانونی خرید و فروخت کے شواہد سامنے آئے، ملزمان کال ڈیٹیل ریکارڈ، آئی ایم ای آئی، سبسکرائبر معلومات اور لوکیشن ڈیٹا غیرقانونی طور پر فروخت کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

پی ٹی اے کے مطابق برآمد شدہ ریکارڈ میں شہریوں کے فنگر پرنٹس، شناختی کارڈ کی معلومات اور مالی لین دین کے شواہد بھی شامل ہیں، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی تلاش کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق ٹیلی کام صارفین کے ذاتی اور خفیہ ڈیٹا کا تحفظ ادارے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، حساس صارف معلومات کی غیرقانونی خرید و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے سائبر جرائم اور ڈیٹا لیکس کی روک تھام کے لیے باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہیں ۔پی ٹی اے کے مطابق جدید فرانزک تجزیے کی مدد سے غیرقانونی سرگرمیوں کے مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، پی ٹی اے نے عوام کے ذاتی ٹیلی کام ڈیٹا کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔