خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور یونیورسٹی کالج آف لندن کے درمیان نایاب جینیاتی امراض پر تحقیق کے لیے مفاہمتی یاداشت پر دستخط

جمعہ 17 جولائی 2026 15:21

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 جولائی2026ء) خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور نے بین الاقوامی تحقیقی تعاون کے میدان میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے برطانیہ کی معروف یونیورسٹی کالج لندن کے ساتھ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت نایاب جینیاتی بیماریوں کی جدید سالماتی تشخیص اور تحقیق کو فروغ دیا جائے گا۔

کے ایم یو پشاور تر جمان کے مطابق اس معاہدے کے تحت یونیورسٹی کالج لندن خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے نایاب جینیاتی امراض میں مبتلا مریضوں کے نمونوں کی ہول ایکسوم سیکوینسنگ اور ہول جینوم سیکوینسنگ مکمل طور پر مفت انجام دے گی۔ اس بین الاقوامی تعاون سے ایسے پیچیدہ اور موروثی امراض کی تشخیص میں نمایاں پیش رفت متوقع ہے جن کی بروقت شناخت اب تک ممکن نہیں ہو سکی تھی۔

(جاری ہے)

یہ تحقیق بالخصوص پرائمری مائیکروسیفلی، موروثی اعصابی نشوونما کی بیماریاں، مسکیولر ڈسٹرافیز، موروثی ایٹیکسیا، لیوکوڈسٹرافی، میٹابولک امراض، ایپی لیپسی سنڈرومز، پارکنسنز بیماری اور دیگر نایاب پیدائشی امراض کی تشخیص میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس اقدام سے صوبے میں نایاب جینیاتی بیماریوں کی تشخیص کے نظام میں انقلابی بہتری آئے گی اور ایسے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے نئی امید پیدا ہوگی جو برسوں سے درست تشخیص کے منتظر ہیں۔

یہ مشترکہ تحقیقی منصوبہ پروفیسر ڈاکٹر مشرف جیلانی اور پروفیسر ڈاکٹر عنایت شاہ کی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا، جو خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور یونیورسٹی کالج لندن کے درمیان قائم دیرینہ تحقیقی اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں جدید جینومک میڈیسن کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ اہم کامیابی خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے بڑھتے ہوئے عالمی تحقیقی کردار کی عکاس ہے اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق کی دوراندیش قیادت، تحقیقی معیار، جدت طرازی اور بین الاقوامی اشتراک کے فروغ کے وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے، جن کی مسلسل سرپرستی میں کے ایم یو عالمی سطح پر اپنی سائنسی و تحقیقی شناخت کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔

اس شاندار کامیابی پر پروفیسر ڈاکٹر مشرف جیلانی، پروفیسر ڈاکٹر عنایت شاہ، ڈاکٹر زوہیب خان، اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے تمام اساتذہ، محققین اور عملے کو دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ یہ بین الاقوامی شراکت داری پریسیژن میڈیسن کے فروغ، عالمی سائنسی تعاون کے استحکام اور پاکستان کے عوام کو جدید اور مؤثر طبی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اور قابلِ فخر قدم ثابت ہوگی۔