خیبرپختونخوا اسمبلی: بنوں، باجوڑ اورٹانک میں موبائل سروس کی بندش پر حکومتی و اپوزیشن ارکان کا شدید احتجاج، رپورٹ طلب

پیر 20 جولائی 2026 22:16

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 جولائی2026ء) خیبرپختونخوا اسمبلی میں بنوں، باجوڑ اور ٹانک میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی طویل بندش کا معاملہ شدت سے اٹھایا گیا، جہاں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے عوام کو درپیش مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔حکومتی رکن اسمبلی پختون یار خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ضلع بنوں میں موبائل نیٹ ورک مکمل طور پر معطل ہے، جس سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ ضلع میں کرفیو نافذ ہے اور معمولات زندگی مفلوج ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین سے چار روز گزرنے کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ متعلقہ وزیر کی جانب سے جواب نہ ملنے پر انہوں نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔

(جاری ہے)

بعد ازاں ڈپٹی سپیکر کی یقین دہانی پر وہ دوبارہ ایوان میں واپس آگئے۔معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن عثمان بیٹنی نے ٹانک میں موبائل ٹاورز کی بندش کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپیکر کی رولنگ کے باوجود تین سے چار ماہ گزرنے کے باوجود کسی موبائل ٹاور پر کام نہیں ہوا، جس کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

ایم پی اے انور زیب نے کہا کہ حلقہ نیابت، باجوڑ میں گزشتہ کئی ماہ سے موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام پر عوام خوش تھے، مگر سہولیات کے بجائے انہیں دہشت گردی اور بنیادی سہولتوں کی محرومی ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا جدید ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہی ہے جبکہ قبائلی اضلاع مسلسل پسماندگی کا شکار ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دھمکیاں دینے والوں تک تو انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے، لیکن عام شہری اس بنیادی سہولت سے محروم کیوں ہیں۔

اے این پی کے رکن نثار باز نے کہا کہ باجوڑ میں آئے روز بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہو رہے ہیں، جس سے حکومتی رٹ کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے باجوڑ کے شہری اپنے اہل خانہ سے رابطہ نہ ہونے کے باعث شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک بدامنی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جاتے، ترقی کی باتیں بے معنی ہیں، اور وفاقی حکومت دہشت گردی کے معاملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔

ڈپٹی سپیکر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موبائل سروس کا معاملہ وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، لہٰذا صوبائی کوآرڈی نیشن کمیٹی کا اجلاس بلا کر اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔بعد ازاں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے ایوان کو بتایا کہ ضلع بنوں میں نہ کوئی آپریشن جاری ہے اور نہ ہی کرفیو نافذ ہے، البتہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز معمول کے مطابق ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہئیں۔

اس پر پختون یار خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈپٹی کمشنر بنوں کے سرکاری سوشل میڈیا پیج پر واضح طور پر حکومت کی ہدایت پر بنوں میں نافذ کرفیو اور موبائل سروس کی بندش کے باعث ایٹا کے زیر اہتمام ٹیسٹ ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیر قانون کو اس کے برعکس معلومات دی گئی ہیں تو ایوان کو بتایا جائے کہ غلط بیانی کون کر رہا ہے۔ڈپٹی سپیکر نے ہدایت کی کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ تیار کرے، متعلقہ حکام کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے اور حقائق پر مبنی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔