سندھ کو پانی کے حصے سے محروم کرنا آئین اور 1991ء کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے، نثار احمد کھوڑو

جمعرات 23 جولائی 2026 22:15

سندھ کو پانی کے حصے سے محروم کرنا آئین اور 1991ء کے معاہدے کی خلاف ورزی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جولائی2026ء) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے سندھ کو اس کے مقررہ حصے کا پانی نہ ملنے اور جلال پور کینال، تونسہ پنجند اور چشمہ جہلم لنک کینالز میں پانی چھوڑنے کے عمل کو غیر آئینی، غیر قانونی اور 1991ئ کے آبی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

جمعرات کو جاری اپنے بیان میں نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ سندھ کو 1991ئ کے آبی معاہدے کے تحت اس کا جائز حصہ فراہم نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث صوبہ شدید پانی کی قلت کا شکار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ کے حصے سے پانی کی کٹوتی کرکے تونسہ پنجند اور چشمہ جہلم لنک کینالز میں پانی چھوڑا جا رہا ہے، جس پر سندھ کو شدید اعتراض ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ارسا صوبوں کے درمیان پانی کی شفاف تقسیم کرانے میں ناکام ثابت ہوا ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پانی قومی اثاثہ ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی اس کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور جمہوری فورم پر جدوجہد جاری رکھے گی۔نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ جمعہ کے روز سندھ بھر میں احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا تاکہ ملک اور دنیا کو بتایا جا سکے کہ ایک جانب بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرکے دریائے سندھ کے پانی پر قدغن لگانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سندھ کے حصے کے پانی سے کٹوتی کرکے فلڈ کینالز میں پانی چھوڑا جا رہا ہے، جو سندھ کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ ٹیل کا صوبہ ہے اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق پانی پر پہلا حق زیریں علاقوں کا ہوتا ہے، لیکن اس اصول کی بھی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نے کہا کہ جلال پور کینال سے متعلق سندھ کے اعتراضات مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں زیر التوا ہیں، اس لیے کونسل کے فیصلے سے قبل کینال میں پانی چھوڑنا غیر آئینی اقدام اور سی سی آئی کی آئینی حیثیت پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی سی آئی اس معاملے کا فوری نوٹس لے۔نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ وہ ماضی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ایکنک) کے رکن کی حیثیت سے بھی جلال پور کینال کے معاملے کو سی سی آئی کے فیصلے سے مشروط کرا چکے ہیں، تاہم اب آئینی فورمز کو نظر انداز کرکے کینال میں آزمائشی بنیادوں پر پانی چھوڑنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے پانی پر کسی بھی قسم کا ڈاکا صوبے کے آئینی حقوق اور وفاقی وحدت پر حملہ ہے۔

اگر سندھ کے ساتھ پانی کے معاملے میں ناانصافی کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی اپنے احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے مطابق ہر صوبہ اپنے حصے کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا حق رکھتا ہے، تاہم کسی دوسرے صوبے کے حصے کا پانی استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔نثار احمد کھوڑو نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئین کے آرٹیکل 154(3) کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس فوری طلب کیا جائے، 1991ئ کے آبی معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور تونسہ پنجند، چشمہ جہلم لنک اور دیگر متنازع کینالز میں سندھ کے حصے کا پانی چھوڑنے کا عمل فوری بند کیا جائے۔