ا*علما ء کی کردار کشی کرنے والے اپنے گریبان جھانکیں، جے یو آئی(س)

ًملک کی سلامتی اور نظر یاتی سرحدو ں کی حفاظت کیلئے بے شمار جید علماء اپنی جانیں وطن پر قر بان کر چکے وطن عزیز میں جاری دہشت گردی کیخلاف دینی طبقہ ہی ہمیشہ سکیور ٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑا ہوا

بدھ 22 جولائی 2026 17:15

ٓ لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 جولائی2026ء) جمعیت علمائے اسلام (س) لاہور کے امیر و مرکزی سالار مولانا قاری اعظم حسین، امیر مولانا پیر عبدالقدوس نقشبندی، ناظمِ اعلی مولانا ایوب خان، ڈپٹی سیکرٹری پیر اکبر ساقی، لاہور کے ناظمِ اعلی مولانا طیب عثمانی، نائب امیر مولانا صلاح الدین ایوبی، قاری واحد بخش، قاری رحمت اللہ لاشاری، انجینئر خالد ٹیپو، عبدالحمید تونسوی، مولانا محمد ممتاز، مولانا توقیر عباس سمیت دیگر رہنمائوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہعلما ء کی کردار کشی کرنے والے اپنے گریبان جھانکیں،ملک کی سلامتی اور نظر یاتی سرحدو ں کی حفاظت کیلئے بے شمار جید علماء اپنی جانیں وطن پر قر بان کر چکے، وطن عزیز میں جاری دہشت گردی کے خلاف دینی طبقہ ہی ہمیشہ سکیور ٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑا ہوا۔

(جاری ہے)

انہو ں نے مزید کہاکہ مولانا سمیع الحق شہید اور ان کے صاحبزادے مولانا حامد الحق شہید سمیت دیوبند مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے متعدد جید علما کو شہید کیا جا چکا ہے، لیکن ان کے قاتلوں کو آج تک قانون کے کٹہرے میں نہ لایا جا سکنا ایک تشویش ناک امر اور اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ علما اور مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ ملک میں قانون کی بالادستی اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے، ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام ریاستی اداروں، سیاسی جماعتوں اور دینی و مذہبی حلقوں کو مل کر مو ثر حکمتِ عملی تشکیل دینا ہوگی۔

دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ان عوامل کا بھی سدباب ضروری ہے جو معاشرے میں انتہا پسندی، بدامنی اور انتشار کو فروغ دیتے ہیں۔