”کاکروچوں“ نے مودی سرکارکو ہلا دیا‘احتجاج پورے بھارت میں پھیل گیا

ناکام حکمت عملی پر بی جے پی بھی ناراض‘بات وزیرتعلیم کے استعفے سے وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے تک جاپہنچی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 23 جولائی 2026 16:10

”کاکروچوں“ نے مودی سرکارکو ہلا دیا‘احتجاج پورے بھارت میں پھیل گیا
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی”کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی احتجاجی تحریک دن بدن شدت اختیار کرتی جارہی ہے‘دارالحکومت نئی دہلی میں تین دن سے ”کاکروچوں“کا دھرنا جاری ہے اور شرکاءکی تعداد میں بڑھتی جارہی ہے‘تحریک کے منتظمین کے مطابق پورے ملک سے نوجوان دھرنے میں شرکت کے لیے دہلی آرہے ہیں.

(جاری ہے)

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مودی سرکاری نے دہلی آنے والے راستوں پر غیراعلانیہ ناکہ بندیاں کررکھی ہیں جبکہ ٹرین اسٹیشنوں پر بھی دھرنے میں شرکت کے لیے آنے والے متعدد نوجوانوں کو بغیرکسی وجہ کے حراست میں لیا گیا ہے یہ تحریک ابتدا میں آن لائن طنزیہ مہم تھی لیکن اب ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہو چکی ہے. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چند ہفتوں سے جاری ”کاکروچ جنتا پارٹی”کی احتجاجی تحریک اب ایک ملک گیر عوامی مہم کی شکل اختیار کر چکی ہے ابتدا میں یہ تحریک سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں سامنے آئی تھی، تاہم اب یہ لاکھوں نوجوانوں کے غصے اور بے چینی کی علامت بن گئی ہے احتجاج کا بنیادی محرک سرکاری امتحانات میں مبینہ پرچہ لیک، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور تعلیمی نظام میں شفافیت کے مطالبات ہیں.

تازہ اطلاعات کے مطابق نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے اطراف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جہاں ہزاروں طلبہ، کوچنگ سینٹرز کے امیدوار اور مختلف ریاستوں سے آنے والے نوجوان دھرنا دیے ہوئے ہیں. مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ صرف امتحانی نظام کی اصلاح نہیں بلکہ ”میرٹ کی بحالی“ چاہتے ہیں عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق تحریک کی ابتدا میںاحتجاج میں شریک نوجوانوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور پرچہ لیک میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جو اب وزیراعظم نریندرمودی کے استعفے تک پہنچ چکا ہے.

بتایا گیا دارالحکومت میں متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی بعض مقامات پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کی اطلاعات سامنے آئیں جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ احتجاج کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے . وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ بیان میں کہا کہ امتحانی پرچہ لیک میں ملوث افراد کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا حکومت نے ایسے مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے اور سخت قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ محض اعلانات کافی نہیں، بلکہ وہ نظام چاہتے ہیں جس میں امتحانات کی ساکھ مستقل طور پر بحال ہو .

تحریک کے منتظمین کے مطابق ”کاکروچ“ایک علامتی نام ہے جیسے کاکروچ سخت حالات میں بھی زندہ رہتا ہے، ویسے ہی عام نوجوان بھی معاشی دباﺅ، بے روزگاری اور نظامی ناانصافی کے باوجود جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں یہی علامت سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہوئی اورپورے بھارت میں #CockroachMovement اور #CJP جیسے ہیش ٹیگز ٹاپ ٹرینڈکررہے ہیں . مودی سرکار کی جانب سے تحریک کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس کو بلاک کروانے کے بعد ملک بھر سے آنے والے شدید ردعمل کو دیکھتے ہوئے ”میٹا‘ایکس اور ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں نے ”سی جے پی“کے عارضی طورپر بلاک اکاﺅنٹس بحال کردیئے ہیں تاہم دہلی اور گرد ونواح کے علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس تین دنوں سے جزوی طورپر بند ہے.

دوسری جانب بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے راہنما راہول گاندھی سمیت متعدد اپوزیشن رہنماﺅں نے مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے راہول گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے اپوزیشن جماعتیں اس تحریک کو حکومت کی معاشی اور تعلیمی پالیسیوں کے خلاف عوامی ریفرنڈم قرار دے رہی ہیں. بھارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ تحریک اب صرف امتحانی نظام تک محدود نہیں رہی بھارت میں سرکاری ملازمتوں کے لیے مقابلہ انتہائی سخت ہے اور لاکھوں نوجوان برسوں تک تیاری کرتے ہیں ایسے میں اگر کسی بڑے امتحان کے پرچے لیک ہونے کی خبر سامنے آتی ہے تو امیدواروں میں شدید مایوسی پیدا ہوتی ہے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ احتجاج دراصل نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، روزگار کے محدود مواقع اور حکومتی احتساب سے متعلق بے چینی کی عکاسی کرتا ہے.

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے سفارش اور رشوت کا کلچر بھی نوجوانوں میں مایوسی کی بڑی وجہ ہے کیونکہ لائق ترین نوجوانوں کو سول سروس اور دیگر امتخان پاس کرنے کے باوجود نوکریاں نہیں ملتیں جبکہ امیروں کے بچے امتخانات میں کم نمبر ہونے کے باوجو رشوت اور سفارش کے ذریعے نوکریاں حاصل کرلیتے ہیں . سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے صرف وقتی انتظامی اقدامات پر اکتفا کیا تو یہ تحریک مزید پھیل سکتی ہے دوسری جانب اگر امتحانی نظام میں قابلِ اعتماد اصلاحات، ڈیجیٹل نگرانی، سوالیہ پرچوں کی محفوظ ترسیل اور شفاف تحقیقات کا جامع منصوبہ سامنے آتا ہے تو حالات میں بہتری ممکن ہے فی الحال نئی دہلی، اتر پردیش، بہار، راجستھان اور مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنے ختم نہیں کیے جائیں گے. 
”کاکروچوں“ نے مودی سرکارکو ہلا دیا‘احتجاج پورے بھارت میں پھیل گیا