گیس کے بجائے بجلی کے چولہے کا استعمال دمہ کی شدت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تحقیق

تحقیق میں گھروں کی اندرونی فضا میں مضر گیسوں میں نمایاں کمی اور دمہ کے مریضوں کی علامات میں بہتری ریکارڈ کی گئی

جمعہ 24 جولائی 2026 21:55

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گیس کے چولہوں کے بجائے بجلی کے چولہوں کا استعمال دمہ کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے بیماری کی علامات کی شدت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی کی تحقیق میں 85 بچوں اور بالغ افراد کو شامل کیا گیا، جو شدید دمہ کا شکار تھے۔

محققین نے چار ہفتوں تک ان کی صحت کا جائزہ لینے کے بعد ان کے گھروں میں گیس کے چولہوں کی جگہ بجلی کے چولہے نصب کیے اور آئندہ دو سے تین ماہ تک ان کی صحت اور گھریلو فضائی معیار کا مسلسل معائنہ کیا۔تحقیق کے مطابق گیس کے چولہوں کے استعمال سے نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی مضر گیسیں خارج ہوتی ہیں، جو گھروں کی اندرونی فضا کو آلودہ کرنے کے ساتھ پھیپھڑوں کی کارکردگی متاثر کرتی ہیں اور دمہ سمیت سانس کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہیں۔

(جاری ہے)

محققین نے بتایا کہ بجلی کے چولہوں کے استعمال سے گھروں میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں تقریباً 70 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ دمہ کے مریضوں کی علامات میں بھی واضح بہتری دیکھی گئی، جو بعض صورتوں میں ادویات سے حاصل ہونے والے نتائج کے برابر یا اس سے بہتر تھی۔تحقیق کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ بیماری کے باعث تعلیمی اداروں یا دفاتر سے غیر حاضری میں 80 فیصد تک کمی آئی، جبکہ ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ضرورت بھی 70 فیصد تک کم ہوگئی۔محققین نے واضح کیا کہ تحقیق محدود پیمانے پر کی گئی ہے، اس لیے ان نتائج کی مزید تصدیق کے لیے بڑے پیمانے پر اور طویل المدتی طبی مطالعات کی ضرورت ہے۔