صحافی تنظیموں کو اس صورتحال پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے، حامد میر

صحافیوں کے تحفظ اور پیشہ ورانہ ساکھ کو سنگین چیلنجز لاحق ہیں، تقریب سے خطاب

جمعہ 24 جولائی 2026 22:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) نیشنل پریس کلب اسلام آباد، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جی) اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جی) کے اشتراک سے سینئر صحافیوں کے تجربات سے نوجوان صحافیوں کو روشناس کرانے کیلئے صحافت بیتی پروگرام این پی سی میں منعقد ہوا، جس میں سینئر صحافی، کالم نگار اور اینکر حامد میر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی،جبکہ تقریب کی نظامت کے فرائض سیکرٹری این پی سی ڈاکٹر فرقان راو نے سرانجام دیئے،تقریب میںاین پی سی کے صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راو، حافظ طاہر خلیل، فارق اقدس، مطیع اللہ جان، ڈاکٹر عبدالودود قریشی، صغیر چوہدری، خاور نواز راجہ، آر آئی یو جے دستورکے صدر رانا کوثر علی، فنانس سیکرٹری رازق بھٹی سمیت سینئر صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی،تقریب کے آغاز میں سینئر صحافی نواز رضا نے حامد میر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ "صحافت بیتی" کا مقصد ملک کے ممتاز صحافیوں کی پیشہ ورانہ جدوجہد، تجربات اور صحافت کے سفر کو نئی نسل تک پہنچانا ہے، حامد میر نے اپنی صحافتی زندگی میں بے شمار خطرات کا سامنا کیا لیکن کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئیمہمان خصوصی حامد میر نیکہا کہ پاکستان میں صحافت ہمیشہ مختلف ادوار میں دباو کا شکار رہی ہے، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں پابندیوں کا سامنا رہا، تاہم آج کا دور اس لحاظ سے زیادہ پیچیدہ ہے، آج پاکستان کی صحافت اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک سے گزر رہی ہے، جہاں آزادی اظہار، صحافیوں کے تحفظ اور پیشہ ورانہ ساکھ کو سنگین چیلنجز لاحق ہیں۔

(جاری ہے)

حامد میر نے کہا کہ پاکستان میں صحافت کی ساکھ کو سب سے بڑا خطرہ غیر پیشہ ور افراد کی صحافت میں شمولیت سے لاحق ہے، ہر اینکر صحافی نہیں ہوتا، جبکہ ہر صحافی اینکر بن سکتا ہے۔انہوں نے نیشنل پریس کلب کی موجودہ قیادت کی جانب سے بائیومیٹرک تصدیق کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صحافتی برادری کی ساکھ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، انہوں نے تجویز دی کہ پریس کلبوں کو واضح معیار کے مطابق صحافیوں کی رجسٹریشن، بائیومیٹرک تصدیق اور پیشہ ورانہ شناخت کے نظام کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ صحافت کی عزت اور وقار برقرار رکھا جا سکے،اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے حامد میر نے 2014 میں کراچی میں اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے، مختلف ادوار میں عائد پابندیوں، صحافیوں کے اغوا اور قتل کے واقعات اور آزادی صحافت کے لیے اپنی جدوجہد کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان پر حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں آسکی۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان میں متعدد صحافیوں کو مختلف ذرائع ابلاغ سے ہٹا دیا گیا ہے یا انہیں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق صحافی تنظیموں کو اس صورتحال پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے تاکہ آزادی صحافت کا موثر دفاع کیا جا سکے۔

حامد میر نے کہا کہ صحافت کا بنیادی مقصد عوام کی آواز بننا ہے۔ اگر میڈیا غیر جانبداری، دیانت داری اور پیشہ ورانہ اخلاقیات پر قائم رہے گا تو عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ صحافیوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر صرف صحافتی اصولوں کے مطابق کام کرنا چاہیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال نے کہا کہ سینئر صحافیوں کے تجربات سے نئی نسل کو مستفید کرنے کے لیے "صحافت بیتی" پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس سلسلے کے انعقاد پر سینئر صحافی نواز رضا کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔عبدالرزاق سیال نے کہا کہ وہ حامد میر کی جانب سے پریس کلب میں بائیومیٹرک نظام کی حمایت پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بائیومیٹرک نظام کے نفاذ سے صرف حقیقی اور رجسٹرڈ ممبران ہی پریس کلب میں داخل ہو سکیں گے جبکہ نئی ممبرشپ بھی میرٹ پر دی جائے گی اور کم از کم گریجویشن کی شرط پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

انہوں نے صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت اور اجلاسوں کی کارروائی سے بھی آگاہ کیا۔ اس موقع پر صحافیوں کے رہائشی پلاٹوں کے معاملے پر بھی تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ متعلقہ ادارے ایک ماہ کے اندر پلاٹ دینے کے پابند ہوں گے۔صدر نیشنل پریس کلب نے کہا کہ صحافی برادری اتفاق و اتحاد سے تمام مسائل حل کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام صحافتی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ایک مضبوط اور متحد یونین تشکیل دینے کی کوشش کی جائے گی تاکہ صحافیوں کے حقوق کا موثر دفاع کیا جا سکے۔

انہوں نے صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے مختلف ورکشاپس کے انعقاد سے متعلق بھی آگاہ کیا۔تقریب کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں حامد میر نے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صحافتی ذمہ داریوں، آزادی اظہار، صحافیوں کے تحفظ، ریاستی دباو، میڈیا کی تقسیم اور صحافی برادری کے اتحاد کی ضرورت پر تفصیل سے اظہار خیال کیا۔تقریب کے اختتام پر نیشنل پریس کلب کے سیکرٹری ڈاکٹر راو فرقان نے تمام مہمانوں اور شرکا کا تقریب میں شرکت کرنے پرشکریہ ادا کیا۔