پسنی فش بندرگاہ کی سرگرمیاں متاثر، ملازمین فاقہ کشی ،ماہی گیر معاشی بحران سے دوچار،ملازمین تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم

ہفتہ 25 جولائی 2026 17:30

گوادر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جولائی2026ء) پسنی فش بندرگاہ کی سرگرمیاں متاثر، ملازمین فاقہ کشی اور ماہی گیر معاشی بحران سے دوچار،ملازمین تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم،گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے۔تفصیلات کے مطابق ماضی میں حکومت بلوچستان کو ہر ماہ کروڑوں روپے ریونیو دینے والی پسنی فش ہاربر اتھارٹی کے ملازمین گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

تنخواہیں نہ ملنے سے ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں اور وہ اپنے اہل خانہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں۔ملازمین کا کہنا ہے کہ متعدد بار متعلقہ حکام کو اپنی مشکلات سے آگاہ کیا گیا، تاہم تاحال تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں مسلسل تین ماہ تک تنخواہوں سے محرومی نے انہیں ذہنی اذیت اور معاشی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔

دوسری جانب حکومت بلوچستان کی عدم دلچسپی کے باعث پسنی فش ہاربر گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے کے زائد عرصہ سے ڈریجنگ نہ ہونے کی وجہ سے شدید مسائل کا شکار ہے۔ بندرگاہ میں ریت اور گاد جمع ہونے سے نہ صرف فش ہاربر اتھارٹی کے ملازمین بلکہ ہزاروں ماہی گیر خاندانوں کا روزگار بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت ڈریجنگ نہ ہونے سے لانچوں اور کشتیوں کی آمدورفت متاثر ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں ماہی گیری کی سرگرمیاں مکمل طور متاثر ہو گئی ہیں۔

مقامی ماہی گیروں کے مطابق فش ہاربر کی خستہ حالی اور ڈریجنگ نہ ہونے سے نہ صرف فش ہاربر اتھارٹی کے ملازمین بلکہ ہزاروں ماہی گیر خاندانوں کا روزگار بھی شدید متاثر ہوا ہے۔متاثرہ ملازمین اور ماہی گیروں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ملازمین کی تین ماہ کی بقایا تنخواہیں ادا کی جائیں، جبکہ پسنی فش ہاربر میں ہنگامی بنیادوں پر ڈریجنگ کروا کر بندرگاہ کو دوبارہ مکمل طور پر فعال بنایا جائے تاکہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار بحال ہو سکے۔