سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا

بدھ 29 جولائی 2026 20:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 جولائی2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس بدھ کو اسلام آباد کلب میں سینیٹر رانا محمود الحسن کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور پاکستان میں سرکاری خریداری (پروکیورمنٹ) کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مجوزہ اصلاحات پر غور کیا گیا۔

ایم ڈی پی پی آر اے نے کمیٹی کو’’الیکٹرانک پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم‘‘ کو اپنانے، وفاقی اداروں میں پبلک پروکیورمنٹ رولز کے نفاذ، صوبائی حکام کے ساتھ خریداری کے قواعد و ضوابط کو ہم آہنگ کرنے اور ہنگامی صورتحال کے دوران ضروری اشیاء کی خریداری کے قانونی فریم ورک کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

(جاری ہے)

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ای پیڈزنے منصوبہ بندی سے لے کر ٹھیکے کی منظوری (کنٹریکٹ ایوارڈ) تک کے پورے عمل کو ڈیجیٹل بنا کر شفافیت کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔

یکسانیت برقرار رکھنے اور غیر مجاز تبدیلیوں کو روکنے کے لیے اس سسٹم میں سٹینڈرڈ بیڈنگ ڈاکومنٹس کو شامل کیا گیا ہے۔ ارکان کو بتایا گیا کہ ای پیڈز پلیٹ فارم سے باہر کی جانے والی ادائیگیاں اب قابل قبول نہیں ہیں جس سے مالیاتی جوابدہی اور شفافیت کو فروغ ملا ہے۔گفتگو کے دوران ارکان نے مینوئل اور الیکٹرانک پروکیورمنٹ میں فرق، خریداری کی مدت،سب سے زیادہ فائدہ مند بولی کی تشخیص کا طریقہ کار، ڈیٹا کی سکیورٹی، سائبر سکیورٹی کے تحفظات اور ای پیڈز پلیٹ فارم کے مجموعی نظام پر سوالات اٹھائے۔

پی پی آر اے حکام نے وضاحت کی کہ ٹھیکے’’سب سے زیادہ فائدہ مند بولی‘‘ کے طریقہ کار کے تحت دیئے جاتے ہیں جبکہ تکنیکی خصوصیات اور اہلیت کا معیار پبلک پروکیورمنٹ رولز کے مطابق متعلقہ ادارے خود طے کرتے ہیں۔ حکام نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ فریقین کے عدالت جانے سے قبل شکایات کے ازالے کے لیے ایک باقاعدہ نظام موجود ہے۔کمیٹی نے سائبر سکیورٹی کے تحفظات کو مزید مضبوط بنانے،ای پیڈزپلیٹ فارم کو مسلسل اپ گریڈ کرنے، ملک گیر سطح پر وینڈرز (فروخت کنندگان) کی تربیت کو وسعت دینے اور آنے والے اجلاس میں سسٹم کی سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا پروٹیکشن فریم ورک پر ایک خصوصی بریفنگ پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مزید برآں کمیٹی نے پی پی آر اے کو ہدایت کی کہ وہ دنیا کے بہترین طریقوں کا موازنہ کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر استعمال ہونے والی انکرپشن اور سائبر سکیورٹی کے طریقوں کا ایک موازنہ و تجزیہ پیش کرے۔مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء کی خریداری کے حوالے سے پی پی آر اے نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں کوئی خاص استثنیٰ یا رعایت نہیں دی گئی۔

اتھارٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ پبلک پروکیورمنٹ رول 21A کے موجودہ احکامات ہنگامی خریداری کے لیے قانونی طریقہ کار فراہم کرتے ہیں، لہٰذا کسی الگ استثنیٰ کی ضرورت نہیں ہے۔ کمیٹی نے ’’ڈرافٹ ڈسپوزل آف پبلک ایسٹس ریگولیٹس 2026‘‘ کا بھی جائزہ لیا جو ای پیڈزکی عملی ضروریات کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔ پی پی آر اے نے بتایا کہ قانونی اعتراضات کی روشنی میں ان میں ترمیم کی گئی ہے اور منظوری کے بعد انہیں نوٹیفائی کر دیا جائے گا۔

سرکاری اثاثوں کی شفاف نیلامی یا ڈسپوزل کے لیے ای پیڈز میں ایک مخصوص ماڈیول بھی تیار کیا گیا ہے۔اجلاس کے دوران ارکان نے اسلام آباد کلب میں اجلاس کی میزبان کے باوجود ایڈمنسٹریٹر اسلام آباد کلب کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ ایڈمنسٹریٹر کو اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے تھی یا غیر حاضری کی صورت میں باضابطہ مطلع کرنا چاہیے تھا۔

کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ اسلام آباد کلب کے انتخابات جلد از جلد منعقد کرائے جائیں اور اس معاملے کو وزیراعظم آفس کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔کمیٹی نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کی جانب سے پچھلے اجلاس کی ہدایات پر عمل نہ کرنے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور اس معاملے کو متفقہ طور پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے حقوق و مراعات کو بھیجنے اور وزیراعظم کے علم میں لانے کی سفارش کی۔

چیئرمین کمیٹی نے پی پی آر اے کو ہدایت کی کہ وہ معیاری طریقوں، بڑھتی ہوئی شفافیت، سائبر سکیورٹی او ای پیڈز پلیٹ فارم کی مسلسل ہنر مندی کے ذریعے پروکیورمنٹ فریم ورک کو مزید مضبوط کرے۔ انہوں نے اتھارٹی کو آئندہ اجلاس میں جاری اصلاحات پر جامع بریفنگ دینے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس کا اختتام موثر پارلیمانی نگرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے پاکستان میں شفاف، موثر اور جوابدہ سرکاری خریداری کے نظام کو فروغ دینے کے عزم کے ساتھ ہوا۔اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی، سینیٹر محمد عبدالقادر اور متعلقہ اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔