بھارتی فورسز نے گزشتہ سات ماہ کے دوران 21 کشمیری شہیدکیے، پٹن قتل عام کے مثاثرہ خاندان تاحال انصاف کے منتظر

ہفتہ 1 اگست 2026 22:02

سری نگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 اگست2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران گزشتہ سات ماہ کے دوران 21 کشمیریوں کو شہید کیا۔کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے آج جاری کیے گئے اعداد و شمار میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز اور بدنام زمانہ ایجنسیوں نے اس عرصے کے دوران نوجوانوں ، طلباءاور خواتین سمیت 4ہزار 6سو 50 شہریوں کو گرفتار کیا جن میں سے بہت سوں کے خلاف کالے قوانین” پبلک سیفٹی ایکٹ اور یواے پی اے “کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔

قابض بھارتی فورسز نے اس عرصے میں طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے کم از کم 50کشمیریوں کو زخمی کیا۔ بھارتی انتظامیہ نے گزشتہ سات ماہ میں کشمیریوں کی 253جائیدادیں ضبط کر لیں جبکہ بھارتی فورسز نے رہائشی مکانات سمیت کم از کم 52عمارتیں مسمار کر دیں۔

(جاری ہے)

1990 کے پٹن قتل عام کی المناک یادیں 36 برس کا ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندانوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں ۔

قتل عام میں شہید ہونے والوں کے اہلخانہ تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔بھارتی فوج کے اہلکاروں نے یکم اگست 1990 کو ضلع بارہمولہ کے قصبے پٹن بازار میں اندھا دھند فائرنگ سے کم از کم 12بے گناہ کشمیریوں کو شہید جبکہ 82 زخمی کر دیے تھے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر ہائیکورٹ نے 3کشمیریوں عزیز امین جان ، عارف احمد ملہ اور اویس مشتاق گنائی کی کالے قانون”پبلک سیفٹی ایکٹ“کے تحت نظر بندی کالعدم قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کو انکی رہائی کے احکامات دیے ہیں۔

بھارت نے حریت رہنماؤں اور کارکنوں سمیت چار ہزار کے لگ بھگ کشمیریوں کو جھوٹے مقدمات میں سلاخوں کے پیچھے ڈال رکھا ہے۔ ضلع کولگام کے علاقے کیلم میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے2غیر مقامی افراد ہلاک ہو گئے ۔مقبوضہ علاقے میں تازہ موسلا دھار بارش نے وادی کشمیر کے کچھ شمالی حصوں بانڈی پورہ ،سوپور وغیرہ میں سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے ۔ مقبوضہ علاقے کے محکمہ موسمیات نے علاقے میں 7 اگست تک وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے۔