کل جماعتی حریت کانفرنس کی 5اگست کو یوم سیاہ کے طورپر منانے کی اپیل، مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہڑتال اوردنیا بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی

منگل 4 اگست 2026 18:02

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 اگست2026ء) کنٹرول لائن کے دونوں جانب، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری کل یوم استحصال کشمیر منائیں گے تاکہ بی جے پی کی بھارتی حکومت کے 5اگست 2019کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے خلاف احتجاج ریکارڈاوراقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حق خودارادیت کے مطالبے کا اعاہ کیا جاسکے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس نے ایک بیان میں کشمیری عوام سے یوم سیاہ منانے اور مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال اور دنیا بھر میں پرامن مظاہروں کی اپیل کی ہے۔

حریت کانفرنس نے کہا کہ بی جے پی کی ہندوتوا حکومت نے سات سال سے جاری فوجی محاصرے اور ریاستی دہشت گردی سے مقبوضہ جموں وکشمیر کوایک ٹارچرسیل میں تبدیل کردیاہے۔بیان میں کہاگیا کہ 5اگست 2019کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دفعہ 370اور 35A کو منسوخ کیاگیا جو کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت، آبادی اور بنیادی حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔

(جاری ہے)

یوم استحصال منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ نہتے کشمیریوںپر10لاکھ سے زائد قابض بھارتی فوجیوں کے وحشیانہ مظالم کی طرف مبذول کرانا ہے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر شاخ نے اسلام آباد میں اپنے کنوینر غلام محمد صفی کی زیر صدارت ایک اجلاس میں یوم سیاہ منانے کی حریت کانفرنس کی اپیل کی حمایت کی ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں کانگریس،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی 5اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے اور جموں وکشمیر کی مکمل ریاستی شناخت کی بحالی کیلئے احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جموں میں سکھ تنظیموں نے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کا مطالبہ کیاہے۔ یہ مطالبہ بھائی کنہیا نشکام سیوا سوسائٹی کے سربراہ مہندر سنگھ کی زیر صدارت منعقدہ سکھ رہنمائوں کے اجلاس میں کیا گیا۔دلت، اقلیتوں اور آدیواسیوں کی کنفیڈریشن ڈوما کنفیڈریشن نے جموں میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی 5اگست 2019 سے پہلے کی پوزیشن بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے کی تقسیم نے جموں وکشمیر کے مستقل رہائشیوں کے زمین، روزگار اور شناخت کے حقوق کو ختم کر دیا ہے۔