آزاد جموں و کشمیر میں جاری کشمکش کا حل صرف اور صرف سیاسی ہے‘ خواجہ سعد رفیق

اس وقت تک مسلسل گفت و شنید ، بات چیت ، مکالمے اور منطق کا استعمال کیا یہاں تک کہ راستہ نکل آئے متشدد مظاہرے یا ریاستی طاقت کا استعمال زخم گہرے کر رہا ہے ،کشمیریوں ، پاکستان کی کمٹمنٹ پر ضرب نہیں لگنی چاہیے

بدھ 5 اگست 2026 20:30

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 اگست2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں جاری کشمکش کا حل صرف اور صرف سیاسی ہے،اس وقت تک مسلسل گفت و شنید ، بات چیت ، مکالمے اور منطق کا استعمال یہاں تک کہ راستہ نکل آئے ،متشدد مظاہرے یا ریاستی طاقت کا استعمال زخم گہرے کر رہا ہے ،کوئی شک نہیں کہ ریاست کی رٹ قائم ہونی چاہیے لیکن کشمیریوں اور پاکستان کی کمٹمنٹ پر ضرب نہیں لگنی چاہیے لیکن بدقسمتی سے زخم گہرے ہو رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں سعد رفیق نے کہا کہ اس لڑائی کا فائدہ بیرونی یا اندرونی دشمن کو نہیں ہونا چاہیے اس کے برعکس پاکستان دشمن طاقتیں اس صورتحال کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔

(جاری ہے)

بیرون ِ ملک آباد اور کثیر زر ِ مبادلہ پاکستان بھیجنے والے کشمیری جو کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے تھے اب آزاد جموں و کشمیر میں ہونے والی کاروائیوں پر آئے روز احتجاج کرتے ہوئے وفاق پاکستان سے دور ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس صورتحال کو جلد از جلد نہ سنبھالا گیا تو ملک کے مختلف حصوں میں قومی سالمیت کے خلاف سرگرم مسلح گروہ آزاد کشمیر جیسے پر امن علاقے میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں نتیجے کے طور پر آزاجموں و کشمیر میں امن و امان ایک پیچیدہ اورمستقل مسئلہ بن جائے گا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکومت اور ایکشن کمیٹی کو تمام مطالبات بارے بیٹھ کر ہی بات کرنا ہو گی ، آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں تو پھر آج کیوں نہیں ،کوئی لالی پاپ نہ دیں جو ہو سکتا ہے وہ کر گزریں جو نہیں ہو سکتا اس پر دلیل دی جائے ۔

انہوںنے کہا کہ ہمیشہ حکومتیں ہی مظاہرین سے بات میں پہل کرتی ہیں ، بہت ہی مجبوری میں طاقت کا محدود استعمال کی جاتا ہے لیکن بات چیت کبھی توڑی نہیں جاتی ، مطالبات پر غور و خوض اور بات چیت سے گریز دانشمندانہ پالیسی نہیں ہو سکتی ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پوری دیانتداری سے یہ موقف دلائل کے ساتھ متعدد بار ہر متعلقہ فورم پر، جہاں تک مہماری آواز پہنچ سکتی ہے پیش کیا ہے ،ان صفحات پر بار بار یہی موقف پیش کرنے کا مقصد ان تمام حلقوں تک اپنی بات پہنچانا ہے جہاں ہمیںرسائی حاصل نہیں ہے۔

اپیل ھے کہ جو جہاں ہے وہیں رک جائے،فریقین ایک ایک قدم پیچھے ہٹیں، دونوں طرف سے سی بی ایمزکیے جائیں ، اسے ایک دوسرے کی کمزوری نہ سمجھا جائے ، بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوچکا ہے ،ہم اس کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔فریقین انائوں ، ناراضگیوں اور شکوک و شبہات سے بالاتر ہو کر اللہ کی رضا کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کریں ، ایک دوسرے پر کوئی حملہ نہ کیا جائے۔