سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ اولین ترجیح، ایس ای سی پی کا بلنک کیپٹل کیس ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ

ہفتہ 8 اگست 2026 20:38

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 اگست2026ء) سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ اور کیپٹل مارکیٹ میں شفافیت یقینی بنانے کے پیش نظر ، عوامی شکایات پر تحقیقات مکمل کرنے کے بعد بلنک کیپٹل مینجمنٹ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی مینجمنٹ کے خلاف ریفرنس قانونی کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھجوانے کی منظوری دے دی ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے دوران 35 شکایت کنندگان کی جانب سے مجموعی طور پر 44 کروڑ 66 لاکھ روپے سے زائد کے دعوے سامنے آئے ہیں۔بلنک کیپٹل پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج سے لائسنس یافتہ فیوچرز بروکر ہے۔ یہ کمپنی سرمایہ کاروں کو فکس منافع اور اصل سرمایہ کی واپسی کی گارنٹی پر غیر قانونی طور پر رقوم وصول کرنے میں ملوث پائے گے۔

(جاری ہے)

سرمایہ کاروں کی شکایات سامنے آنے پر ایس ای سی پی نے فیوچرز مارکیٹ ایکٹ 2016 کے سیکشن 83 کے تحت تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

بلنک کیپٹل کے 29 شکایت کنندگان سے متعلق تقریباً 40 کروڑ 86 لاکھ روپے کی رقوم کی نقل و حرکت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیقات میں بلنک کیپٹل، اس کے اُس وقت کے چیف ایگزیکٹو اور ڈائریکٹر سمیت دیگر ملازمین اور متعلقہ افراد کے اکاؤنٹس میں رقوم کی منتقلی کے شواہد سامنے آئے، جبکہ قابل ذکر رقوم نقد بھی نکلوائی گئیں۔تحقیقات کے مطابق سرمایہ کاروں کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئے جن میں 3.7 فیصد ماہانہ سے 48 فیصد سالانہ تک فکس منافع کی پیشکش کی گئی، جبکہ سرمایہ کی ضمانت کے طور پر پوسٹ ڈیٹڈ چیکس بھی جاری کیے گئے۔

دستیاب شواہد کی بنیاد پر تحقیقاتی ٹیم نے قرار دیا کہ بلنک کیپٹل مبینہ طور پر پونزی طرز کی فراڈ پر مبنی سرمایہ کاری اسکیم چلا رہا تھا اور اپنے لائسنس کے دائرہ کار سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر رقوم وصول اور گارنٹی شدہ منافع کی پیشکش کر رہا تھا۔چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ مارکیٹ کا غلط استعمال کرنے والوں، مارکیٹ میں ہیرا پھیری کرنے والے عناصر اور ریگولیٹڈ حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر سرمایہ کاروں کو دھوکا دینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ مارکیٹ یا سرمایہ کاروں کے اعتماد کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف تمام ضروری ریگولیٹری اور انفورسمنٹ اقدامات کیے جائیں گے۔تحقیقات میں کمپنیز ایکٹ 2017، فیوچرز مارکیٹ ایکٹ 2016 اور فیوچرز بروکرز (لائسنسنگ اینڈ آپریشنز) ریگولیشنز 2018 کی متعلقہ دفعات کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔

معاملے کی سنگینی اور تحقیقاتی نتائج کے پیش نظر کمیشن نے ایس ای سی پی ایکٹ 1997 کے سیکشن 41-B کے تحت کیس ایف آئی اے کو بھجوانے کی منظوری دی ہے تاکہ مزید تحقیقات اور متاثرہ سرمایہ کاروں کی شکایات کے ازالے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔ایس ای سی پی نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ فکس یا گارنٹی شدہ منافع کی پیشکش کرنے والی غیر قانونی سرمایہ کاری اسکیموں سے محتاط رہیں اور سرمایہ کاری سے قبل متعلقہ ادارے کی قانونی حیثیت اور مجاز کاروباری سرگرمیوں کی تصدیق ضرور کریں۔