میر رضا کی نس میں ایسی دوائی ڈالی گئی جس سے حرکت نہیں کرسکتے لیکن درد محسوس کرسکتے ہیں

قتل سے پہلے مقتول 12گھنٹے اغواء کاروں کی قید میں تھا، میر رضا کو تیزاب سے نہلایا گیا اس لئے لاش خراب ہوئی، خدشہ ہےکہ تیزاب پلایا بھی گیا، وکیل جبران ناصرکی نیوزکانفرنس

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 11 اگست 2026 22:24

میر رضا کی نس میں ایسی دوائی ڈالی گئی جس سے حرکت نہیں کرسکتے لیکن درد ..
کراچی ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 11 اگست 2026ء ) کراچی میں مقتول میر رضا کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ میر رضا کی نس میں ایسی دوائی ڈالی گئی کہ آپ حرکت نہیں کرسکتے لیکن درد محسوس کرسکتے ہیں، قتل سے پہلے مقتول 12گھنٹے اغواء کاروں کی قید میں تھا ۔مقتول میر رضا کے وکیل جبران ناصر اور والد نے نیوزکانفرنس کی ۔ جبران ناصر نے بتایا کہ ہم یہ کیسے مان لیں کہ میر رضا نے اپنے اکاؤنٹ خود خالی کئے یا موبائل ہیک ہوا، میر رضا کی شرٹ بتا رہی ہے کہ اس کو تیزاب سے جلایا گیا۔

قاتلوں نے ایک قسم کی دوائی میر رضا کی نس میں ڈالی، یہ ایسی دوائی تھی کہ آپ حرکت نہیں کرسکتے لیکن درد محسوس کرسکتے ہیں۔ میر رضا کی لاش صاف بتا رہی ہے کہ گولی پیچھے سے ماری گئی۔

(جاری ہے)

جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ عوام کے سامنے لانا ضروری ہیں۔ میر رضا کو قتل سے پہلے 12گھنٹے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔مرنے سے پہلے میر رضا 12گھنٹے اغواء کاروں کی قید میں تھا، قتل سے پہلے میر رضا کو 12گھنٹے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، میر رضا کو تیزاب سے نہلایا گیا اس لئے لاش خراب ہوئی۔

خدشہ ہے میر رضا کو تیزاب پلایا بھی گیا۔وکیل جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے کرائم سین کے شواہد کو ضائع کیا، قاتل جانتے تھے کہ کہاں کیمرے ہیں اور کہاں سے اٹھانا ہے، قاتلوں کو پتا تھا کہ میر رضا کی لاش کہاں اور کیسے چھوڑنا ہے۔ میر رضا کے سوئم کے دن اس کی سمارٹ واچ مانگی گئی۔ ایس ایس پی سومرو 8روز تک اہم ثبوت اپنی جیب میں لے کر گھومتے رہے۔

ایف آئی آر میں دفعہ 201ڈالی گئی جو ثبوت مٹانے کیلئے ہوتی ہے۔ایک ایسا تفتیشی افسر ٹیم میں شامل کیا گیاجو قتل سے 2ہفتے پہلے کشمیر میں تھا، وہ افسر آج تک واپس نہیں آیا، اس نے کشمیر سے تحقیقات کرنی تھی؟ ثبوت نظر انداز کرنے پر تھانہ گلستان جوہر کے پولسی افسران کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے۔ نئی ٹیم بھی حیران ہوگئی کہ اسمارٹ واچ 10روز تک ایس ایس پی سومرو کے پاس تھی۔