اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 اگست 2026ء) نیوز ایجنسی اے ایف پی کی طرف سے افغانستان بھر میں کیے گئے انٹرویوز سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسکینڈری اسکول کی تعلیم پر پابندی نے بند دروازوں کے پیچھے کس قدر تکلیف اور اذیت پیدا کی ہے، حتیٰ کہ مذہب پر سختی سے عمل پیرا باپ بھی اس فیصلے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
طالبان
حکام اس پابندی، جو دنیا میں اپنی نوعیت کی واحد پابندی ہے، کو اسلامی قانون کی اپنی تشریح کی بنیاد پر درست قرار دیتے ہیں۔مگر مذہب پر سختی سے عمل پیرا ایک افغان والد نے کہا، ''آپ کو قرآن میں کبھی نہیں ملے گا کہ تعلیم صرف مردوں کے لیے ہے۔‘‘ جبکہ ایک اور والد، جس نے سلامتی کی بحالی اور بدعنوانی میں کمی پر طالبان حکومت کی تعریف کی، کہا کہ اسے ''اس کی کوئی مناسب وضاحت نہیں ملتی۔
(جاری ہے)
‘‘
ان تمام افراد نے، جن کی شناخت اے ایف پی نے صیغہ راز میں رکھی ہے، اس پابندی سے پیدا ہونے والی جذباتی کیفیت بیان کی، جہاں باپ اپنی ذہین مگر لاچار بیٹیوں کی مدد کے لیے راتوں کو بے خوابی کا شکار رہتے ہیں۔
اقوام متحدہ
کے گزشتہ سال کے ایک سروے میں دس میں سے نو افغان مردوں نے کہا تھا کہ لڑکیوں کا ثانوی تعلیم حاصل کرنا اہم ہے، جبکہ تقریباً دو تہائی نے کہا تھا کہ بیٹی کی تعلیم میں مدد دینا باپ کے لیے ''نیکی کا کام‘‘ ہے۔بعض افراد اس پابندی کے خلاف مظاہرہ کرنے پر جیل بھی جا چکے ہیں۔
طالبان
نے مارچ 2022ء میں لڑکیوں کے ثانوی تعلیمی اداروں میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی، جبکہ اسی سال بعد میں یونیورسٹیوں کے دروازے بھی نوجوان خواتین کے لیے بند کر دیے گئے تھے۔طالبان
حکومت نے اس پابندی سے متعلق اے ایف پی کے سوالات کا کوئی جواب نہ دیا۔حکام کا اصرار ہے کہ یہ پابندی عارضی ہے۔ تاہم چار برس سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد اقوام متحدہ کا اندازہ ہے، ''ثانوی تعلیم پر پابندیوں سے کم از کم دس لاکھ لڑکیاں براہ راست متاثر ہوئی ہیں۔‘‘
خوف کا دن قریب آ رہا ہے
انجینئر احمد، جن کی اہلیہ ایک اسکول میں ریاضی کی استاد تھیں مگر جنہیں اب پڑھانے کی اجازت نہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ''ایک دن میری بیٹیاں ناخواندہ ہوں گی۔
‘‘چار بیٹیوں کے اس باپ نے کہا، ''چھٹی جماعت پر رک جانا انہیں اکیسویں صدی کے تقاضوں کے لحاظ سے عملاً ناخواندہ چھوڑ دے گا۔‘‘
انہوں نے کہا، ''ہر روز اور ہر رات، میں اور میری بیوی اس لمحے کے قریب ہوتے جا رہے ہیں، جب ہماری بیٹیوں کو گھر پر رہنا پڑے گا۔‘‘
ان کی سب سے بڑی بیٹی پرائمری تعلیم کے اختتام کے قریب ہے اور ان کے شمالی افغان شہر میں خفیہ کلاسوں کا خرچہ ان کی آدھی سے زیادہ تنخواہ کے برابر ہے، اس لیے انہیں ملک چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔
ایک بین الاقوامی تنظیم کا سابق ملازم ہونے کی وجہ سے وہ اپنے خاندان کو امریکہ منتقل کرنے کے قریب تھے لیکن پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ راستہ بھی بند کر دیا۔ اگرچہ یورپی ممالک باقاعدگی سے افغانستان میں خواتین پر عائد تعلیمی اور دیگر پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں تاہم سویڈن، ڈنمارک اور جرمنی نے بھی انہیں ویزے دینے سے انکار کر دیا۔
چالیس سالہ احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ بچوں کو ''معلوم نہیں کہ ہم اپنی امید کھو رہے ہیں اور غیر قانونی طریقے سے ملک چھوڑنا بہت زیادہ خطرناک‘‘ ہے۔
کابل
صوبے کے ایک چھوٹے قصبے میں ڈاکٹر محمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی دونوں بیٹیوں کو بہترین یونیورسٹیوں میں بھیجنے کا خواب دیکھا تھا۔انہوں نے بتایا، ''افغانستان کی ترقی کے لیے ہمیں خواتین کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف گھر کے لیے۔‘‘
ان کی دونوں بیٹیاں، جن کی عمریں 12 اور 14 سال ہیں، پرائمری کے آخری سال میں ہیں، جس میں بڑی بیٹی نے تعلیم بعد میں شروع کی تھی۔
گزشتہ چار برسوں سے وہ اس پابندی کا کوئی متبادل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں انہیں ہمسایہ ملک پاکستان کے کسی اسکول میں بھیجنا بھی شامل تھا، مگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد زمینی سرحد بند ہونے سے یہ راستہ بھی اب ناممکن ہو چکا ہے۔
پھر انہیں ایک ایسے اسکول کے بارے میں بتایا گیا، جو خفیہ طور پر مذہبی نصاب کے ساتھ ساتھ عمومی مضامین بھی پڑھاتا ہے۔
وہ بتاتے ہیں، ''یہ ایک نجی اسکول ہے، جو دونوں بیٹیوں کے لیے ماہانہ تقریباً 10 ہزار افغانی سے زیادہ فیس وصول کرتا ہے، کیونکہ وہ زیادہ خطرہ مول لے رہے ہیں۔‘‘اور اس سکول سے کوئی سند بھی نہیں ملتی۔
مگر محمد کو خوف ہے کہ حکام اس سکول کا معائنہ کر کے ان کی بیٹیوں کو حراست میں لے سکتے ہیں۔
42 سالہ محمد نے بتایا، ''سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ سیکھتی رہیں۔
میں نے اپنی بیٹیوں سے کہا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں، تمہاری تعلیم کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکالتا رہوں گا۔‘‘'میں چھپ کر روتا ہوں‘
یہ عید کا دن تھا اور سب لوگ خوشیاں منا رہے تھے مگر ایم کی بیٹی اپنے کمرے میں روتی رہی۔ 13 سال کی عمر میں وہ اب مزید اسکول نہیں جا سکتی تھی۔
ایم نے بتایا، ''اسکول (کی پابندی) کے علاوہ، لڑکیوں کو تفریح یا سیر کے لیے پارکوں میں جانے کی اجازت بھی نہیں، یہ واقعی تکلیف دہ ہے۔
‘‘وہ ہفتے میں ایک بار اسے کسی ریستوراں لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، صرف اسے گھر سے باہر نکالنے کے لیے۔
غریب
گھرانے سے تعلق رکھنے والے اور مذہب کے پابند یہ لاجسٹکس مینیجر سلامتی کی بحالی اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات پر طالبان حکام کی تعریف کرتے ہیں۔ مگر ان کا کہنا ہے، ''لڑکیوں کو ثانوی تعلیم سے روکنے کی مجھے کوئی مناسب وجہ سمجھ نہیں آتی۔‘‘انہوں نے اعتراف کیا، ''بعض اوقات جب وہ گھر میں شدید مایوسی کا اظہار کرتی ہے تو میں برداشت نہیں کر پاتا۔ میں دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہوں اور چھپ کر روتا ہوں۔‘‘
ایم چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی یونیورسٹی جائے اور انہوں نے ہر طرح سے مالی بچت کی، تاکہ وہ ایران منتقل ہو کر وہاں تعلیم حاصل کر سکے۔ مگر جنگ نے اس منصوبے کا خاتمہ کر دیا۔
گھر پر تعلیم
ناصر، جو اپنی 15 سالہ بیٹی کی تعلیم کے قبل از وقت اختتام کا درد پہلے ہی دیکھ چکے ہیں، بتاتے ہیں کہ پرائمری اسکول کے آخری دن ''میری بیٹی اور اس کی ہم جماعت بچیاں بہت غمگین تھیں۔ یہ ایک المناک منظر تھا۔‘‘
اسکول میں بہترین کارکردگی پر ملنے والی ٹرافیاں ان کتابوں کے ساتھ رکھی ہیں، جو ناصر اور ان کی اہلیہ نے فخر سے اپنی بیٹیوں کے لیے گھریلو کتب خانے میں سجا رکھی ہیں۔
وہ اپنی بیٹیوں کو گھر پر ہی، ان پرانی نصابی کتابوں کی مدد سے پڑھاتے ہیں، جو انہوں نے کہیں سے حاصل کی ہیں۔
ناصر بتاتے ہیں کہ ان کی چھوٹی بیٹی ''ذہنی دباؤ کا شکار ہے اور بعض اوقات اس میں گھر پر خود سے پڑھنے کا حوصلہ باقی نہیں رہتا۔‘‘
اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے وہ اسے ناول دیتے ہیں کیونکہ اسے پڑھنے کا بہت شوق ہے۔
انہوں نے آہ بھرتے ہوئے کہا، ''یہ نظام دراصل تعلیم یافتہ لوگ چاہتا ہی نہیں۔ ہم کب معمول کی زندگی کی طرف واپس جائیں گے؟‘‘
ادارت: مقبول ملک