میر رضا کیس کی منصفانہ تفتیش ہوگی، فیملی کو آگاہ رکھا جائیگا، وزیراعلیٰ سندھ

کیس حل ہونے کیبعد پولیس اور میڈیکو لیگل کی کوتاہیوں پر کارروائی کروں گا، نئے صوبوں کے حوالے سے واضح کرچکا ہوں آئین کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا،پنجاب والوں کو سندھ کی اتنی ہی فکر ہے تو آئیں اور انتخابات لڑیں، وزیراعلیٰ سندھ

منگل 11 اگست 2026 22:00

میر رضا کیس کی منصفانہ تفتیش ہوگی، فیملی کو آگاہ رکھا جائیگا، وزیراعلیٰ ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 اگست2026ء) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ میر رضا کیس کی منصفانہ تفتیش ہوگی اور ہر مرحلے سے فیملی کو آگاہ کیا جائیگا، کیس حل ہونے کے بعد پولیس اور میڈیکو لیگل کی کوتاہیوں پر کارروائی کرنا میرا کام ہے۔ آرٹس کونسل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ جوڈیشل کمیشن کیس کی تفتیش کیلیے نہیں بنا رہے تھے، وہ پولیس کا کام ہے، جوڈیشل کمیشن پولیس اور میڈیکو لیگل کی کوتاہیوں کی نشاندہی کیلیے بنایا جا رہا تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ کمیشن بنانے سے پہلے انہوں نے وزیرداخلہ اور میئر کراچی کو میر رضا کے والدین کے پاس بھیجا اور انہوں نے بھی کہا تھا کہ ٹھیک ہے لیکن اگلے توز جب فیملی نے کہا کہ ہم جوڈیشل کمیشن نہیں چاہتے تو ہم نے ان کی رائے کا احترام کیا۔

(جاری ہے)

نئے صوبوں کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ پہلے بھی پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ آئین میں صوبہ بنانے کا طریقہ کار موجود ہے، سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کے خلاف کئی قراردادیں منطور کرچکی ہے اور انہیں نہیں لگتا کہ موجودہ یا مستقبل کی اسمبلی میں کوئی نیا صوبہ بنانے کیلیے دو تہائی اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام ہم پر بھروسہ رکھتے ہیں، میڈیا بھی بھروسہ رکھے۔پیپلزپارٹی پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی پر الزام ہے ہمارا سندھ میں موقف الگ ہے، پنجاب میں الگ لیکن ہم پنجاب میں صوبہ بنانے کی بات اس لیے کرتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی نیا صوبہ بنانے کیلیے قراردادیں منظور کرچکی ہے۔ن لیگ کی حکومت سندھ پر تنقید کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پنجاب والوں کو اگر سندھ کی زیادہ فکر ہے تو آئینی طریقہ کار اختیار کریں، آئیں سندھ میں الیکشن لڑیں، اگر عوام نے سپورٹ کیا تو ان کی خدمت کریں ورنہ اپنی پارٹی سے کہیں کہ وفاقی حکومت کے ذریعے سندھ کی خدمت کریں۔

مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہ بلائے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ نوے روز میں اجلاس بلانا آئینی تقاضہ ہے۔ صحافی اب وفاقی حکومت سے سوال کریں کہ ہمارے مطالبے کے باوجود اجلاس کیوں نہیں بلایا جا رہا۔پریا کماری کی بازیابی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے اعتراف کیا کہ اب تک کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے، انہوں نے بتایا کہ ایک دو مرتبہ اطلاعات ملیں لیکن اس سے کچھ حاصل نہیں ہوسکا۔