مقبوضہ جموں وکشمیر میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ تیز، حریت کانفرنس کی بھارتی یوم آزادی کو” یوم سیاہ“ کے طورپر منانے کی اپیل

بدھ 12 اگست 2026 17:34

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 اگست2026ء) بھارت کے غیرقانونی طورپر زیر تسلط جموں وکشمیر میں بھارتی فورسزنے 15 اگست کو بھارتی یوم آزادی سے قبل حفاظتی اقدامات کے نام پر بڑے پیمانے پرمحاصرے اورتلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی کے زیر کنٹرول ”سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی “نے علاقے میں آج نو مقامات پر چھاپے مارے۔

ایجنسی کی ٹیموں نے بھارتی پیراملٹری اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ملکر اسلام آباد، جموں اور دیگر علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے ۔ بھارتی فورسز نے پونچھ اور راجوری اضلاع کے مختلف علاقوں میں بھی بڑے پیمانے محاصرے اورتلاشی کی کارروائیاں کیں۔قابض حکام نے پورے علاقے میں پابندیوں اورنگرانی کو مزید سخت کردیا ہے اورتلاشی کی کارروائیوں میں تیزی لائی ہے ۔

(جاری ہے)

سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم کو، جہاں بھارتی یوم آزادی کی نام نہاد مرکزی تقریب ہوگی، فوج نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے، سٹیڈیم کے اردگرد بھاری تعداد میں فورسز اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اوراس کی طرف جانے والے تمام راستوں کو بند کردیا گیاہے۔ نگرانی کے لیے ہائی ریزولوشن کیمرے اور اندھیرے میں دیکھنے والے ڈرونز اور کواڈ کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

حساس مقامات پرخاردارتاریں اور نگرانی کا الیکٹرانک نظام نصب کیا گیا ہے، کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں ۔ دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 14 اگست کو پاکستان کے یوم آزادی کو بھرپورجوش وخروش اورملی جذبے سے منائیں جبکہ 15 اگست کوبھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں۔

حریت رہنماوں نے یوم آزادی پرپاکستان کے عوام اور حکومت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری پاکستان کو اپنا محسن اور وکیل جبکہ بھارت کو ایک غاصب ملک سمجھتے ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ اور جموں کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے بھی 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی اپیل کی ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کی طرف سے آج ”نوجوانوں کے عالمی دن “کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے رواں سال اب تک 21 کشمیری نوجوانوں کو شہید اور 4,670 کو گرفتار کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1989 سے اب تک 96ہزار502 کشمیریوں کو شہید کیا گیاجن میں سے زیادہ تر نوجوان تھے جبکہ حریت رہنماﺅ ںاور کارکنوں سمیت 3000 سے زائدکشمیریوں کو جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں نظربند کیاگیا ہے۔