سوات میں سیلاب کے ایک سال بعد بھی ہزاروں متاثرین امداد کے منتظر

اتوار 16 اگست 2026 18:35

سوات(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اگست2026ء) سوات میں تباہ کن سیلاب کو ایک سال مکمل ہوگیا، مگر سیلاب سے متاثرہ ہزاروں خاندان آج بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ 15 اگست 2025کو مینگورہ شہر اور گردونواح میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ ندی نالوں میں طغیانی کے باعث سیلابی پانی گھروں، دکانوں اور کاروباری مراکز میں داخل ہوگیا، کئی مکانات اور مساجد بہہ گئیں، متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں مویشی بھی سیلابی ریلے کی نذر ہوگئے۔

سیلاب کے نتیجے میں اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔ حکومت کی جانب سے جاں بحق اور زخمی افراد سمیت مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہونے والی بعض املاک کے مالکان کو معاوضہ دیا گیا، تاہم ساڑھے تین ہزار سے زائد گھروں اور ڈھائی ہزار سے زائد دکانوں اور دیگر کاروباری مراکز کو پہنچنے والے نقصانات کے متاثرین تاحال امدادی رقوم سے محروم ہیں۔

(جاری ہے)

ایک سال گزرنے کے باوجود متاثرین متعلقہ سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں اور حکومتی وعدوں اور اعلانات کے باوجود انہیں امداد نہیں مل سکی۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ سیلاب ان کے گھروں سے صرف چھتیں اور دیواریں نہیں بلکہ زندگی بھر کی جمع پونجی، فرنیچر اور گھریلو سامان بھی بہا لے گیا، جس کے باعث کئی خاندان آج بھی اپنے گھروں کو مکمل طور پر آباد نہیں کرسکے۔ دکانداروں اور کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ سیلاب کے بعد کاروبار دوبارہ شروع کرنے کے لیے انہوں نے قرضے لے کر دکانیں بحال کیں اور انہیں امید تھی کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدادی رقم ملنے سے وہ قرضے ادا کرسکیں گے، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود امداد نہ ملنے سے وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

امدادی رقوم کے حصول کے لیے متاثرین کی جانب سے متعدد بار احتجاج بھی کیا گیا، تاہم ان کے مطابق حکومتی سطح پر تاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک سال سے امداد کے منتظر تمام مستحق خاندانوں، دکانداروں اور کاروباری افراد کے نقصانات کا فوری طور پر امدادی رقوم جاری کی جائیں تاکہ وہ اپنے اجڑے ہوئے گھر دوبارہ آباد اور تباہ شدہ کاروبار بحال کرکے معمول کی زندگی کی طرف واپس آسکیں۔